آج کا فرد جدید ٹیکنالوجی کی محیر العقول ایجادات و اختراعات سے اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ اس کے ذہن میں موجود کائنات کے وسیع تصور کو بھی گویا بہت حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب پوری کائنات اُس کی ہتھیلی پر رکھ دی گئی ہے۔ہر کس وناکس اس بات سے واقف ہے کہ ہماری زندگی پرانٹرنیٹ کا کتنا زیادہ اثر ہے۔اب ایسا لگتا ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اب’’وجودِ’ نیٹ ‘سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘والا معاملہ ہو گیا ہے۔رہی سہی کسر سوشل نیٹ(Social Netwroking) ورکنگ نے پوری کر دی ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ ہماری نئی نسل کی زندگیوں میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ آج کے بچے گویا روٹی، کپڑا اور مکان کے نہیں بلکہ رو ٹی، کپڑا اور سوشل نیٹ ورکنگ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ۸۱ فی صد بچے سوشل نیٹ ورکنگ کا استعمال کرتے ہیں جن کی عمر ۱۳ سے ۱۷ سال کی ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نو عمر بچے کس قدر سوشل نیٹ ورکنگ کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ہمیں اس بات سے بھی انکار نہیں ہوسکتا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا جرائم سے خالی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں مستی مستی میں آپ جرم کا شکار بھی ہو سکتے ہیں اور پتہ بھی نہ چلنے پائے۔ جہاں ایک طرف لوگ سائبر جرائم کا شکار ہورہے ہیں وہیں دوسری طرف سائبر بُلنگ(Cyber BUllying) اژدھے کی طرح منہ کھولے ہوئی ہے۔ سائبر بُلنگ کا نتیجہ بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے کہ انسان ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہو کر خود کشی کی انتہا کو پہنچ سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۱۳ سے ۱۷ سال کے بچے بھی سائبر بُلنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔سوشل نیٹ ورکنگ گویا اب ایک نشہ سا بن چکی ہے جو دھیرے دھیرے ہمائی نئی نسل کو کھوکھلاکر رہی ہے۔ ہمارے یہاں موبائیل فون کا استعمال تین طرح کے بچے کرتے ہیں۔ایک وہ جو ابھی تک بات بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتے ہیں ۔وہ بھی موبائیل فون کے عادی بن چکے ہیں اور ہم بڑے ہی فخر سے کہتے ہیں کہ میرا بچہ موبائیل کے بغیر رہتا نہیں ہے۔ حیرت تو تب ہوتی ہے جب کوئی ماں یہ کہتی ہے کہ میرا بچہ تب تک کھانا نہیں کھاتا ہے جب تک موبائیل پر کارٹون نہ چلائے جائیں۔ لیکن ہم قطعی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ اُس نوزائد بچے کے ہاتھ میں ہم نے ہی موبائیل فون تھمادیا ہے۔ اُس نے رونا کیا شروع کیا کہ ہم نے موبائیل فون کی رنگین اسکرین دکھا دی۔دوسرے وہ بچے جنھیں آن لائن پڑھنے کے لیے موبائیل فون حالات کی مجبوری کے سبب دئیے گئے ہیں۔لیکن آن لائن کلاس کے نام پر وہ بچے بھی اپنی ہی دنیا میں مست ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اب کھانا کھاتے وقت بھی ہاتھ سے موبائیل فون نہیں چھوڑتے ہیں۔ یعنی کھاتے، پیتے، چلتے، اٹھتے، بیٹھتے غرض ہر وقت وہ موبائیل فون سے ہی چمٹ کر رہتے ہیں۔تیسرے ہمارے نو جوان ہیں جن پر ہماری قوم کا مستقبل ٹِکا ہوا ہے۔ لیکن اب صورت حال ایسی ہے کہ نئی نسل اگر اپنے حال ہی کو بچا لیتے تو اچھا تھا؛ مستقبل کا خدا ہی حافظ ہے۔دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب اور فیس بک کا استعمال مذکورہ عمر کے بچے زیادہ کرتے ہیں۔اگر ہم ریاست جموں و کشمیر کی بات کریں تو ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ یہاں بھی فیس بک کے ساتھ ساتھ یو ٹیوب کا بے حد استعمال ہورہا ہے۔ میرا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہمیں سوشل نیٹ ورکنگ سے کلی طور لا تعلق ہونا ہے۔ لیکن جس رفتار سے بچے بالخصوص جو ابھی بلوغیت کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، اس کے ہتھے چڑھ رہے ہیں وہ یقینی طور باعث تشویش ہے۔ کیوں کہ یہاں پر وہ بڑی آسانی سے سائبر بُلنگ کا شکار ہوسکتے ہیں۔اگر ہم یو ٹیوب کی بات کریں گے تو وادی ٔ کشمیر میں بچوں پریو ٹیوب کے بڑھتے اثرات سے ایسا لگتا ہے کہ ایک ایسے طوفان کی آمد ہے جو بچوں کو اخلاقی اعتبار سے معذور بنا کر ہی دم لے گا۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ بچے قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنی قوم کے مستقبل کو بھی سنوارتے ہیں۔ ایک مثالی قوم کے پیچھے بچوں کی مثالی تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ اب اگر وہی بچے خود ایسی راہ پر چلیں گے جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہے تو ایسے میں جس قوم کی تشکیل و تعمیر ہو گی وہ لولی لنگڑی تو ہوگئی ہی۔اگر ہم کشمیر کے یو ٹیوبرس(Youtubers) اور یوٹیوب روسٹنگ (Youtube Roasting)کی بات کریں تو ہمیں سر دھننا پڑتا ہے کہ مزاحیہ ویڈیوز کی آڑ میں ہمارے بچوں کو کیا کیا خرافات دیکھنے سننے کو ملتی ہیں۔دیکھا جائے تو کشمیری بچوں پر پہلے سے ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح کے یو ٹیوبرس کی گندی زبان کے اثرات نمایاں ہیں اور کامیڈی کے نام بھی جتنی بھی گالیاں وہ اپنی ویڈیوز میں دیتے رہتے ہیں وہ ہمارے بچے سیکھ چکے ہیں؛جو ہمارے لیے باعث تشویش اور لمحۂ فکریہ ہے۔ رہی سہی کسر کشمیر کے یو ٹیوبرس نے پوری کر دی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوبرس محض اپنی ویڈیوز پر ویوز(Views)اور سبسکرائبرس(Subscribers) بڑھانے اور یو ٹیوب سے پیسے وصولنے کے لیے ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیںجس میں نازیبا الفاظ کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔ تیسرے درجے کی بازاری قسم کی زبان کا استعمال اور ایک دوسرے کو لعن طعن کرناہی ہمارے یہاں کئی یو ٹیوبرس کی کامیڈی کی کل کائنات ہے۔ میں کسی ایک یو ٹیوبر کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ مجموعی طور پر اصل میں یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ بچوں کی کردار سازی میںہم ناکام کیوں ہو رہے ہیں۔؟کیوں بہترین اسکول اور اچھا ماحول ملنے کے باوجود بھی بعض بچوں میں بہترین کردار سازی کی کمی محسوس ہورہی ہے۔؟ جہاں والدین اپنے بچے کی کردار سازی میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں وہیں دوسری طرف مختلف سماجی رجحانات بھی بچوں کی کردار سازی میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے یوٹیوبرس ’مزاحیہ ویڈیو‘ کے نام پربچوں کو اخلاق اعتبار سے بگاڑنے اور اُن کے اذہان کو اپاہج بنانے کی خوب تیاریاں کررہے ہیں۔اور اس کار خیر میں ہم بھی اپنا کردار غیر شعوری طور ہی سہی خوب ادا کرتے ہیں۔ میں نے اس چیز کا بہ غور مشاہدہ کیا ہے کہ چھوٹے بچے بھی اب روزمرہ کی گفتگو میں ایسے نا زیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگے ہیں جن کے مطالب و معنی سے بھی وہ بے خبر ہیں۔پہلے تو میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا طنز و مزاح کے لیے نازیبا زالفاظ کا استعمال ناگزیر ہے۔؟کیا ایک دوسرے کی لعن طعن کے بغیر کسی کو ہنسایا نہیں جا سکتا ہے۔؟اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یوٹیوبرس شاید اس بات کا اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ اُن کی ویڈیوز کس قدر اثر انگیزہوتی ہیں۔ اور نتیجتاً وہ کامیڈی کے سبب غیر شعوری طور پر بچوں کی کردار سازی میں منفی کردار ادا کرتے ہیں۔اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ یو ٹیوبرس بڑی محنت کرتے ہیں لیکن مزید محنت سے وہ بچوں کی کردار سازی میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں کہ وہ مواد کے ساتھ ساتھ زبان پر بھر پور توجہ دیں اور ایسے الفاظ کو ترک کریں جن سے بچوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ آج تیسرے درجے کی زبان اور نازیبا الفاظ اور لعن طعن کی عادت لگ جائے گی تو کل اُنھیں جب اس کی پوری طرح عادت لگ چکی ہوگی تواُنھیں اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئے گی ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یو ٹیوبرس کچھ نیا کرنے کے لیے مجبوراً گالیوں کا استعمال بھی کرنے لگیں گے ۔ کیوں کہ معاشرے میں پلنے والی ایک خرابی اپنے ساتھ دوسری خرابی ضرورلے کر آتی ہے۔ ویسے بھی کئی معروف ملکی وبین الاقوامی یو ٹیوبرس کی گندگی زبان اور گالیاں ہماری نئی نسل پوری طرح سے سیکھ چکی ہے لیکن کشمیر کے یو ٹیوبرس اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرکے نئی نسل کو اس دلدل میں جانے سے روک سکتے ہیں۔یوٹیوب کے اس بڑھتے رجحان کے پیچھے کسی حد تک حالات کا بھی دخل ہے۔چھوٹے بچوں کو آن لائن کلاسز کے لیے موبائیل فون کی دستیابی نے زیادہ اسکرین ٹائمنگ (Screen Timing)کی عادت ڈال دی جس کی وجہ سے بچوں کی توجہ انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ کی طرف مرکوز ہوگئی۔ لیکن اس صورت حال میں والدین اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں ہر وقت اس بات کی شکایت رہتی ہے کہ بچے آن لائن کلاس کے بعد موبائیل فون ہاتھ سے چھوڑتے ہی نہیں ہیں جب کہ کلاس کا کوئی کام بھی نہیں رہتا ہے۔ میں نے ایسے والدین کو بھی دیکھا ہے جو آن لائن کلاس ختم ہو جانے کے بعد بچوں سے موبائیل فون لیتے ہیں اور دوسری صبح کلاس کے وقت پھر دے دیتے ہیں۔بعض والدین کو اس طرح کی حرکتیں راس نہیں آتی ہیں اور وہ اسے فضول پابندیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔اپنے بچوں کو آزادی ضرور دیجیے لیکن اتنی بھی نہیں کہ وہ آپ کی محبت اور ضرورت سے زیادہ دی ہوئی آزادی کا غلط فائدہ اُٹھائے اور آپ کی اُمیدوں پر پانی پھیرجائے۔دوسرا مسئلہ روسٹرس سے جڑا ہوا ہے۔ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ نوجوانانِ کشمیر کن حالات سے گزرے ہیںیا گزر رہے ہیں۔اُن کے حالات ہر اعتبار سے ناگفتہ بہ ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ’دل بہلانے کے لیے غالب یہ روسٹنگ اچھی ہے‘والا معاملہ ہوجائے۔روسٹنگ میں ہم نے دیکھا ہے کہ دوسرے لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور بد قسمتی سے اسے بھی مزاح کا نام دیا جارہا ہے۔کیا کامیڈی کا مطلب کسی کی تذلیل کرنا ہے۔؟اکثر ویڈیوز ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جن میں بغض و عناد یا پھرذاتی نفرت کی بنیاد پر دوسروں کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ وہیں کچھ ویڈیوز ایسے بھی ہیں جس میں دوسرے لوگوں کی غلطیوں کو اُچھالا گیاہے اور اُس بنیاد پر روسٹنگ کی گئی ہے۔پھر جب کسی روسٹرس سے اس حوالے سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی تم ایسا کیوں کرتے ہو ۔تو ہمیں دو طرح کے جواب موصول ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ فلاں شخص اپنی ویڈیوز میں حرکتیں ہی ایسی کرتا ہے کہ ہم روسٹ کرنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ یعنی وہ خود ہمیں روسٹ کرنے کی گویا دعوت دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہماری روسٹنگ کا مقصد قطعی کسی کی دل آزاری نہیں ہے۔یہاں تک کہ وہ روسٹنگ کی ویڈیوز کے شروع ہی میںایک انتباہ جاری کرتے ہیں کہ اس ویڈیو کا بنیادی مقصد محض لوگوں کو ہنسا نا ہے۔میں نے بذات خود اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ ان ویڈیوز میں استعمال کیے جانے والے غیر اخلاقی فقرے زبان زد عام ہورہے ہیں یہاں تک کہ چھوٹے بچے جنھیں ابھی اچھے برے کی سمجھ بھی نہیں ہے وہ بھی اس قسم کے فقرے بول لیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ والدین خود اپنے بچوں سے بعض اوقات نقل کروالیتے ہیں اور من ہی من میں خوش ہوجاتے ہیں۔ مجھے اُن والدین پر بھی ترس آتا ہے جو اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اُن کے بچے کسی نام نہاد مزاح نگار کے چند نازیبا مکالمو ں اور فقروںکی نقل کرتا ہے۔ اس طرح ہم خود اپنے بچوں کو بگاڑ رہے ہیں جس کا نتیجہ بہت ہی خطر ناک ہو سکتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ویسے بھی ہمارے یہاں نئی نسل پر سوشل میڈیا کے برے اثرات واضح طور پر نمایاں ہیں لیکن اس دلدل سے اُنھیں نکالنے کی بجائے ہم اُنھیں مزیداُس میں دھکیل رہے ہیں۔لیکن ہماری انفرادی کوششوں سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے ۔ جس کی ذمہ داری یہاں کے یو ٹیوبرس اور روسٹرس کے ساتھ ساتھ والدین پر بھی عائد ہوتی ہیں ۔یو ٹیوبرس طنز مزاح پر مشتمل ویڈیوز ضرور بنائیں لیکن ایسی زبان کا استعمال کریں جس سے نئی نسل کی کردار سازی بھی ہوجاسکے۔ اسی طرح اگر کوئی بچہ کسی ویڈیو کے نازیبا مکالمے نقل کر رہاہے تو والدین اُسے انتباہ کریں۔اُسے سمجھائیں اور اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اس طرح کی زبان کے استعمال سے گریز کرے۔
���
رابطہ۔ترال، کشمیر،موبائل نمبر؛9149958892
ای میل۔[email protected]