یواین آئی
کولمبو// سری لنکا جوحالیہ برسوں کی شدید ترین موسمی آفت کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں اور متعدد تودے گرنے کے واقعات میں 31 افراد ہلاک 14 لاپتہ ہیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، یہ بات جمعرات کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) نے بتائی۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق خراب موسم نے ملک کے 17 اضلاع کو متاثر کیا ہے، جس سے 1,158 خاندان اور 4,008 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ڈی ایم سی کے مطابق 10 افراد زخمی ہوئے، 3 گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 381 مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ کم از کم 131 افراد کو عارضی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ضلع بدولا میں سب سے زیادہ 18 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جس کے بعد کیگل میں 7 اور نوارا ایلیا میں 4 اموات ہوئیں۔ ہمبانٹوٹا اور کورونے گالا میں ایک ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید تودے گرنے، سیلاب اور سڑکوں کے بند ہونے کے واقعات پیش آسکتے ہیں، خاص طور پر وسطی اور پہاڑی علاقوں میں۔صورتحال کے بگڑنے کے درمیان، محکمہ امتحانات نے جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے یونیورسٹی داخلہ امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ کمشنر جنرل امتحانات نے کہا کہ کئی اضلاع میں شدید بارشوں نے ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم کردیا ہے اور اہم سڑکوں کی بندش کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ ایمرجنسی ٹیمیں خطرناک علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ تودے گرنے کی وارننگز اور پانی کی بڑھتی سطح سے باخبر رہیں۔