پرویز احمد
سرینگر //درد شقیقہ یعنی مائیگرین کی بیماری کشمیر صوبے میں کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سردرد سے متاثرہ مریضوں میں سے33فیصد درد شقیقہ یا مائیگرین سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں خواتین کی شرح 90فیصد ہوتی ہے اور یہ خواتین کو 19سے 45سال کے درمیان زیادہ متاثر کرتا ہے۔ درد شقیقہ عموماًسرد ہوتا ہے اور اس میں عام طور پر سر کے ایک حصے میں 4سے 72گھنٹوں تک شدید سردرد رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ان مریضوں میں الٹی، معادے میں درد اور متلی پائی جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں سردرد سے متاثرہ لوگوں میں 33فیصد میں درد شقیقہ کی شکایت ہوتی ہے جو شدید ذہنی دبائو اور نظام حاضنہ کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ان مریضوں میں خواتین کی شرح 90فیصد جبکہ مردوں میں صرف 10فیصد ہی اس بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مائیگرین کے مریضوں میں18سے 30سال کے مریضوں کی شرح 45فیصد،31سے 40سال کے درمیان کے مریضوں میں 37فیصد41سے 50سال کے مریضوں کی شرح 14فیصد اور 51سال سے زیادہ عمر کے مریضوں کی شرح صرف 4فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ ان میں سے 52فیصد خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرتے ہیں جبکہ 48فیصد اقتصادی طور پر متواسطہ درجہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اعصابی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی تیز روشنی، ذہنی دبائو، شوگر اور خوشبو کا استعمال مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔‘‘ ماہرین کے مطابق ان مریضوں کو مرغے، ٹماٹر، دالوں، آلواور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ اعصابی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر عاد ل احمد بٹ کہتے ہیں کہ مائیگرین اعصابی بیماری ہونے کے ساتھ ساتھ معدے کی بیماریوں سے بھی جڑا ہے۔‘‘ ڈاکٹر عادل نے بتایا ’’ان میں 48فیصد مریضوں کا سرد درد کھانے سے جڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درد شقیقہ سے متاثرہ مریضوں میں یہ سردرد 4سے 72گھنٹے تک رہتا ہے لیکن آرام، سونے اور تیزی روشنی سے مریض کرنے سے بھی ان مریضوں کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عادل نے بتایا ’’ مائیگرین کے مریضوں کو ہمیشہ اپنی خوراک اور آس پاس کے ماحول کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کو ہمیشہ شور اور ٹریفک سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔