سرینگر// گھریلو صارفین کے برعکس سرکاری محکموں ،سیکورٹی فورسز، سابق و موجوہ بیرو کریٹوں اور سیاستدانوں کے ذمہ زائد از2300کروڑ روپے بجلی فیس کے بقایاجات کے علاوہ وادی کے کئی نجی اسپتال بھی قریب ڈیڑھ کروڑ روپے کے مقروض ہیں۔جنوب و شمال میں پھیلے یہ نجی اسپتال اگر چہ مریضوں سے بر وقت رقومات وصول کرتے ہیں تاہم درجنوں طبی ادارے محکمہ بجلی کے مقروض ہیں۔دستاویزات کے مطابق ان نجی اسپتالوں میں سینٹ جوزف اسپتال بارہمولہ کے ذمہ ایک لاکھ 70 ہزار، خیبر اسپتال کو 8 لاکھ 98 ہزار، احمدس اسپتال گلشن نگر نوگام کو ایک لاکھ12ہزار،امام حسین اسپتال بمنہ سرینگر کو8لاکھ69ہزار،فلورنس نائٹ انجل اسپتال چھانہ پورہ کو 3 لاکھ 26 ہزار، الشفا اسپتال دھوبی محلہ بٹہ مالو کو 12 لاکھ89ہزار، سٹی اسپتال کو 3 لاکھ 17 ہزار اور کڈنی اسپتال سونہ وار سرینگر کو 3 لاکھ 34ہزار روپے کا بجلی فیس واجب الاداہے۔فہرست میں دیگر اسپتالوں میں ساوتھ سٹی اسپتال کے پی روڑ اننت ناگ کو4لاکھ13ہزار،ڈاکٹر انعام یونانی اسپتال بیہامہ گاندربل کو ایک لاکھ6ہزار،نیو کشمیر یونانی اسپتال ماگام کو6لاکھ87ہزار، لارڈس اسپتال، لبرو بس اسٹینڈ ایک لاکھ11ہزار،یونانی اسپتال اونتی پورہ کو ایک لاکھ 66 ہزار، اسپتال پیٹھ زنگم کو 10 لاکھ 34ہزار اور یونانی اسپتال وے کے پورہ کو 2 لاکھ 28 ہزار روپے کا بجلی فیس واجب الادا ہے۔ اس کے علاوہ بیسوں ایسے اسپتال بھی فہرست میں درج ہیں جو ہزاروں روپے بجلی فیس کی ادائیگی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق غیر گھریلو اداروں پر مجموعی طور پر جون کے آخر تک 2 ہزار 348 کروڑ 78 لاکھ روپے کا بجلی فیس بقایا ہے۔