نواز رونیال
رام بن//ضلع رام بن میں قومی شاہراہ پر زیرِ تعمیر ٹنل ماروگ کے مزدوروں نے تعمیراتی کمپنی نرمان وردھی کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف پُرامن احتجاج کیا اور اپنے جائز مطالبات و مسائل کے حل کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان سے ایڈووکیٹ فیروز خان کی قیادت میں ملاقات کی۔مزدوروں نے تحریری طور پر اپنے مسائل پیش کیے، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ ٹنل کے اندر کام کرنے والے مزدوروں کو باقاعدگی سے تنخواہ کی سلپس فراہم کی جائیں اور اجرت بروقت ادا کی جائے۔ مزدوروں سے وہی کام لیا جائے جس پوسٹ اور ذمہ داری کے لیے انہیں تعینات کیا گیا ہے۔ مزدوروں کو ان کی مہارت اور کام کی نوعیت کے مطابق اجرت دی جائے۔مزدوروں نے الزام عائد کیا کہ انہیں وویک ناگ کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ایک ایک کرکے بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ کام کی جگہوں پر مناسب حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں جبکہ مزدوروں کے لیے بس یا سفری سہولت بھی میسر نہیں ہے۔مزدوروں نے مزید الزام لگایا کہ کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر لیبر قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ اس دوران کام کو سب لیٹ کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ایڈووکیٹ فیروز خان نے کہا کہ اگر کام اصل میں ٹاٹا کمپنی کو دیا گیا تھا تو پھر اسے نرمان وردھی کو سب لیٹ کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ جس کمپنی کو کام الاٹ کیا گیا ہے، اُسی کو براہِ راست کام انجام دینا چاہیے، نہ کہ آگے کسی اور کمپنی کو دینا چاہیے۔ڈپٹی کمشنر رام بن نے مزدوروں کے مسائل کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ تمام لیبر قوانین، قواعد و ضوابط پر صحیح طریقے سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور مزدوروں کے جائز مسائل حل کیے جائیں گے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ فیروز خان نے ڈپٹی کمشنر رامبن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مزدوروں کے مسائل کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ مزدوروں کے ساتھ ہراسانی برداشت نہیں کی جائے گی اور ان کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ایڈووکیٹ فیروز خان نے کہا کہ مزدور انتظامیہ کی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے لیے کچھ دن انتظار کریں گے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ اپنے حقوق کے حق میں سڑکوں پر پُرامن احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔