نئی دہلی// اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سنیکت کسان مورچہ کی ‘ریل روکو’ تحریک کا پنجاب،ہریانہ ،اتر پردیش اور راجستھان میں وسیع پیمانے پر اثردیکھنے کو ملا اور شمالی ہندوستان میں 200سے زیادہ ٹرینیں متاثر ہوئی جن میں تقریباً 40 گاڑیوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ریلوے بورڈ کے سرکاری ذرائع کے مطابق دو سو سے زیادہ گاڑیوں کے چلنے پر کسانوں کی تحریک کے سبب اثر پڑا ہے ۔ تقریباً 40 گاڑیوں کو رد کرنا پڑا۔ تمام گاڑیوں کو جزوی طور پر رد کیا گیا اور کچھ کو تبدیل شدہ راستوں پر چلایا گیا۔ شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تک صورتحال معمول پر آ پائی۔شمالی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن افسر دیپک کمار نے بتایا کہ تقریبا 150 مقامات پر تحریک کے سبب ریل ٹریفک متاثر ہوا۔ سب سے زیادہ 23 ٹرینیں دلی ڈویژن میں، 19 گاڑیاں فیروز پور ڈویژن میں، 16 گاڑیاں مراد آباد ڈویژن میں اور 12 ٹرینیں انبالہ ڈویژن میں متاثر ہوئیں۔ ان میں دلی اور کالکا اور دہلی اور امرتسر کے درمیان چلنے والی دونوں جانب کی شتابدی ایکسپریس گاڑیاں اور دہلی سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا کو جانے والی وندے بھارت ایکسپریس بھی شامل تھیں۔