محمد بن سلام الجمحی اپنی کتاب ’’ طبقات فحول الشعراء‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’شاعری ایک پیشہ ہے جو مزاولتِ عمل سے حاصل ہوتا ہے۔ایک ایسا کلام ہے جس کو اہل علم پہچانتے ہیں جیسا کہ جملہ علوم وصنائع کا معاملہ ہے۔ اس کلام میں سے بعض کو آنکھ سمجھتی ہے، بعض کو کان سمجھتے ہیں، بعض کو ہاتھ سمجھتے ہیں اور بعض کو زبان سمجھتی ہے۔
شاعری میں ہیرے اور جواہرات بھی پائے جاتے ہیں ان کو کسی صفت یا بحر و وزن سے نہیں پہچانا جاتا جب تک اہل بصیرت ان کا معاینہ نہ کریں۔ ان میں دینار و درہم کے پارکھ ہوتے ہیں ۔ دینار و درہم کی جودت کو رنگ سے، چھونے سے، کسی خاص طرز سے، داغ یا کسی اور صفت سے پہچانا نہیں جاتا بلکہ ناقد معاینہ کرکے ہی انہیں پہچان لیتا ہے‘‘
(ج ا ص۵ تحقیق محمود محمد شاکر)
اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فنِ شعربھی دیگر فنون کی طرح نہایت درجے کی محنت شاقّہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے جملہ پہلوئوں پرمہارت حاصل کئے بغیر شاعر عمدہ شعر نہیں کہہ سکتا۔بحور و اوزان، استعارات و تشبیہات، صنائع و بدائع، مراعات النظیر، ایہام وابہام، حسنِ تعلیل، صنعتِ تضاد، رعایتِ لفظی، تلمیحات، ردیف و قوافی وغیرہ کی اہمیت تو بہرحال اپنی جگہ قائم ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ حیدر علی آتش نے بالکل صحیح کہا ہے ؎
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش ؔ مرصع ساز کا
بایں ہمہ متذکرہ بالا صنائع وبدائع کے ساتھ ساتھ شاعری میں رنگِ تغزل، تخیل کی بلندی، احساسات کی شدت، مطالعہ کائنات، فلسفہ کی جدت طرازیاں، عشق کی پختہ گری، زمانے کی نیرنگیاں، حالات کی بُوقلمونی، غمِ ذات، غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی گلکاریاں اور مقاصد کی بلندی بھی شعر کو اثر پذیری کی ایک نئی دنیا سے روشناس کرتی ہے۔
علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ شاعری دراصل احساسات کو الفاظ کے قالب میں بیان کرنے کا نام ہے۔ہر شخص میں جمالیاتی حِس اور تنقیدی جوہر کچھ نہ کچھ موجود ہوتا ہی ہے۔ یہی جمالیاتی حِس یا تنقیدی جوہر کبھی اُسے شعر کہنے یا شعر کی تعیینِ قدرپر، اپنی علمی بساط کے مطابق، مہمیز دیتی ہے۔ لہٰذا دیکھا جائے تو ہر شخص فطرتاً شاعر ہی ہوتا ہے تاہم جذبات و احساسات کو الفاظ کا جامہ زیبِ تن کرنا ہر شخص کی حدِ استطاعت میں نہیں ہوتا۔
شعری صنعتوں کی اہمیت وافادیت سے تو بہر حال انکار ممکن نہیں تاہم معنی آفرینی، مضمون آفرینی، تخیل کی کارفرمائی اور مقصدِ حیات سے آگہی بھی شعر کو بلندی بخشتی ہے۔ ایسے لوگوں کے کلام کو محض صنائع وبدائع کی ترازو میں تول کر اسے اعلیٰ یا پست قرار دینا بھی قرینِ انصاف معلوم نہیں ہوتا۔ہر چند فن کے تقاضے پیشِ نظر رکھے جائیں بایں ہمہ ارتکازِ نظر کا شعر کے معنوی محاسن پر ہونا زیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ زمانۂ قدیم ہی سے جہاں شعر کے فنی محاسن پر گفتگو ہوتی رہی ہے شعر کی معنوی خوبیاں بھی زیر بحث آتی رہی ہیں۔
ایسے شعراء کی تاریخ اردو ادب میں کوئی کمی نہیں رہی ہے جن کی غزلوں میں کیف واثر، درد وغم اور سوز و گداز پایا جاتا ہے۔ بھلا جو شخص تیغِ عشق کا زخم خوردہ ہو، عمر بھر اُس کے دل میں نشترِ عشق چُبھتا رہا ہو، جودلِ آزردہ کا مالک ہو اُس کا کلام بے اثر اور خالی از لطف و انبساط کیوں کر ہو۔
زیر نظر مجموعہ ’’شعاعِ حیات‘‘ کے تخلیق کار جناب محمد سعید قادری المتخلص بہ ’’رہرو کاشمیری‘‘ کو میں انہی شعراء میں شمار کرتا ہوں۔ رہرو کاشمیری عشق کا گہرا ادراک رکھتے ہیں، وہ ہجر کی تکالیف سے بخوبی واقف ہیں لیکن اسے بیان کرنا چنداں آساں نہیں کیوں کہ عشق کی واردات جب گہری کیفیات کی حامل ہوں تو ناقابلِ بیان ہوجاتی ہیں ؎
نہ پوچھ ہجر کی تکلیف کا رہروؔ سے کچھ حال
یہ وہ فسانہ ہے جو قابلِ بیاں نہ رہا
رہروؔ کی غزلوں میں رنگِ تغزل نمایاں ہے۔ یہاں جگر کی خستگی، عُزلت نشینی، محبوب کی ستم رانی، عاشق کی صبر آزمائی نے اشعار میں گداز پیدا کیا ہے۔
حاصل نہیں اک لمحہ بھی خوش کُن گذر سکے
مایوسیاں تھیں رات بھر دل میں اُتر گئے
واقف نہیں وہ آج بھی آدابِ جنوں سے
خود رفتگی ہے اُن میں جو اتنے بکھر گئے
رہروؔ کے حوصلوں میں تازگی اور نمو ہے۔ وہ حالات سے دل برداشت نہیں۔ ان میں خود اعتمادی ہے خود سپردگی نہیں۔ ہر چند انہوں نے محبت کی تلخیاں جھیلی ہیں۔ آنسوئوں کے چراغوں سے شب ہائے فرقت کو روشن کیا ہے تاہم وہ پورے اعتماد و ثوق سے امید کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور جذبوں کو مضمحل ہونے نہیں دیتے۔
خوشبو نہیں ہوں جو بکھر جائوں فضاؤں میں
میں وہ پھول ہوں جو کھلتا ہے تند ہوائوں میں
وہ فکر ہی کیا جو بے چین کردے دل کو
راحت نہ ملی مجھ کو الجھا ہوں خیالوں میں
رہروؔ پر فکرِ اقبال کے گہرے نقوش مرتسم ہیں۔ وہ علامہ اقبال کے فلسفہ، افکارونظریات، اسلامی تعلیمات سے اثر پذیری سے کافی متاثر نظر آتے ہیں۔ اقبال کے کلام میں جن حوصلہ مندیوں کا تجربہ ہوتا ہے، مقاصد کی بلندی اور لائحہ عمل پر انمٹ یقین کی کارفرمائی نظر آتی ہے ان کا پرتو رہروؔ کے یہاں بھی کسی نہ کسی صورت میں جلوہ گر ہے۔
لڑنا ہے ہم کو ہر آن ابلیس کی روش سے
ورنہ اس کژدم کا ڈسنا ہے اک قیامت
مسلم کی فرقہ بندی ملت پر اک عذاب
واعظ کی خودسری کو سہنا ہے اک قیامت
’’علامہ اقبال کے نام‘‘ نظم میں علامہ کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وہ علامہ کو مفکر، مشیرِ عقل، پاسبانِ اُردو، میرِ کارواں، پیامبرِ صداقت قرار دیتے ہیں۔ جنہوں نے مغربی تہذیب کی فسوں کاری کی دھجیاں بکھیر دیں، زندگی کا فلسفہ سمجھایا، عزم کی تصویر میں خونِ جگر شامل کیا، عشق کی سوزش سے سینۂ افلاک کو گرما دیا۔
اے مشیر عقل اے اردو ادب کے پاسبان
اے مفکر ، اے مدبر اے امیر کاروان
اے صداقت کے پیمبر محسنِ اُردو زبان
تیرے اک اک شعر سے دھڑکے قلوب ناتوان
مغربی تہذیب کی تو نے بکھیری دھجیاں
کب گئی ہیں جنبشیں تیرے قلم کی رائیگان
’’رتبہ آدم‘‘ کے عنوان کے تحت جو نظم رہرو کے قلم سے نکلی ہے وہ ان کے انسانی نفسیات کے گہرے ادارک و شعور پر دلالت کرتی ہے۔ رہروؔ کے نزدیک چوں کہ انسان اشرف المخلوقات ہے لہٰذا یہ کائنات بھی اسی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ یہ مسجود الملائکہ بھی ہے اور شیطان کے مطرود و مردود ہونے کا باعث بھی۔ مہرو انجم اس کے قدموں کی دھول ہیں۔ راز ہائے فطرت اس پر عیاں ہیں۔ اس کی وسعتوں کا احاطہ فرشتوں کے حیطۂ امکان سے بھی باہر ہے۔
یہ جہاں میرے لئے یہ لامکان میرے لئے
میں ہوں آدم یہ زمین و آسمان میرے لئے
فہم و ادراک کی مجھے حاصل ہوئی ہے آگہی
جوہر یزدان ہوں کون و مکان میرے لئے
غزلوں کے علاوہ رہرو نے قطعات بھی کہے ہیں۔ ان کے قطعات میں زندگی سے فرار نظر نہیں آتا، وہ زندگی جینے کا حوصلہ دیتے ہیں تاہم وہ زندگی کی تلخیوں پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ مٹتی ہوئی اخلاقی قدروں کا رونا روتے ہیں۔ سرمایہ داری کے ظلم و ستم پر احتجاجی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یقین محکم اختیار کرنے کا درس دیتے ہیں۔
غریبی کو سرمایہ داری نے مارا
تجھے حسن کی ہوس کاری نے مارا
شرافت پہ چھایا رذالت کا غلبہ
رذالت کی تخریب کاری نے مارا
رہروؔ کو ارضی حقیقتوں کا بھی ادراک حاصل ہے۔ وہ سرزمین کشمیر سے محبت کرتے ہیں اور اس کی خصوصیات کو اپنے اندر سمونا بھی چاہتے ہیں۔ کشمیر، جس کو انہوں نے اپنے اصلی نام ’’کاشمر‘‘ سے یاد کیا ہے ان کے خوابوں کی آماجگاہ ہے۔ اس کے حُسن میں ایک نئی تاثیر ہے۔ اس کے پھولوں میں آشتی کی مہک ہے۔ اس کی جھیلیں لعل و گہر کا معدن ہیں۔ اس کے سبزہ زار جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس کا ذرہ ذرہ فکر و فن کے نور سے جگمگا رہا ہے۔ شعراء نے اس کی عظمت کے گیت گائے ہیں۔ لیکن افسوس آج اس پُر عظمت سرزمین کا ذرہ ذرہ خون میں رنگین ہے، تختۂ دار نصب کئے ہوئے ہیں اور بے کسی کا کفن تار تار ہے۔
تیری تابانی سے ہے شرمندہ یہ شمس و قمر
حُسن و عظمت کی نئی تاثیر ہے تو کاشمیر
جھیل ڈل ہے مسکن دُرِ عدن لعل و گہر
حسن و عظمت کی نئی تاثیر ہے تو کاشمر
تیرے ماتھے سے چھلکتا ہے شرافت کا اثر
حسن و عظمت کی نئی تاثیر ہے تو کاشمر
مولوی محمد حسین آزاد نے مصحفی ؔکے بارے میں لکھا ہے ’’غزلوں میں سب رنگ کے شعر ہوتے تھے، کسی خاص طرز کی خصوصیت نہیں‘‘ اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے ’’شعر الھند‘‘ میں یہ گرہ لگائی ہے ’’اس لئے ان کے یہاں تغزل، معاملہ بندی، تصوف، اخلاق، فلسفہ سب کچھ موجود ہے۔‘‘(ج ا ص ۱۰۳)
علی الاطلاق تو نہیں، تاہم ایک درجے میں رہروؔ کے یہاں بھی مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بعض شخصیات پر بھی نظمیں لکھی ہیں، ان میں انفرادیت قائم رکھنے کی کوشش ہے۔
بہر حال رہروؔ نے اپنے کلام میں قدیم روایت ہی کا تتبع کیا ہے اور بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کا کلام بے نمک، پھیکا اور سپاٹ ہے بلکہ اس میں اپنی انفرادی خصوصیات موجود ہیں۔ سرسری نظر گذارنے سے ہی کلام کی معنویت سمجھ آتی ہے۔اہل ذوق کے لئے رہروؔ کے کلام میں جواہر ریزوں کی کوئی کمی نہیں بس کوئی صاحب ہمت عزم کرکے اس بحر میں غواصی کرے تو بہت کچھ ہاتھ آسکتا ہے۔
مجھے امید ہے رہروؔ کا یہ پہلا مجموعہ ذوق وشوق سے پڑھا جائے گا اور باذوق قارئین سے دادِ تحسین بھی پائے گا۔
������