واشنگٹن/متحدہ امریکہ نے کہا کہ وہ روس،یوکرین جنگ کے خاتمے میں ترکی کے تعمیری کردار کو سراہتا ہے اور ترکی نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو امن کی امید کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ترکی نے جنگ آغاز سے لیکر ابتک دونوں فریق ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔امریکی دفتر ِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے یومیہ پریس بریفنگ میں روس کی جانب سے یوکرین میں فائر بندی کے اعلان پر ترکیہ کی کوششو ں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” ترکی کی اس جارحانہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں اور ترکی کا یوکرینی سرزمین کی سالمیت پر مصمم ہونا قابلِ ستائش ہیں۔انقرہ کے جنگ کے آغاز سے ابتک “ایک تعمیری اداکار” ہونے کا ذکر کرنے والے پرائس نے بتایا کہ ترکی کا اس ضمن میں کردار ہمیشہ مثبت رہا ہے ، اس نے ڈائیلاگ اور بامعنی ڈپلومیسی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ صدر رجب طیب ایردوان کی فائر بندی کے معاملے میں روسی صدر ولا دیمر پوتن اور یوکرینی صدر ولا دیمر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش کے ہمراہ بحیرہ اسود اناج راہداری کے قیام کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “اس میکانزم کی تجدید ترکی کے کردار کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے نتیجے میں، یہ میکانزم ایک ایسا طریقہ کار ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ ضرورت مند ممالک کو اناج فراہم کرتا ہے ۔ ترکی نیٹو کے رکن کے طور پر اپنی پوزیشن کا استعمال کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات کے ساتھ ساتھ یوکرین اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات نے امن کی امیدوں کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔پرائس نے بتایا اگر یہ کوششیں ناکام رہتی ہیں تو اس کا ذمہ داری ترکیہ نہیں ماسکو ہو گا۔ اس دوران یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صدراتی مشیرنے کہا ہے کہ جنگ بندی کی تجوزی منافقت کے سوا کچھ نہیں ہے ، روس یوکرینی علاقوں پر سے قبضہ چھوڑ دے ۔روسی صدر پوتن نے آرتھڈوکس کرسمس کے موقعے پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، صدر کے اعلان کے مطابق جنگ بندی چھتیس گھنٹے تک رہے گی جس کا اطلاق آج سے ہوگا۔واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے آرتھوڈوکس مسیحی چھ اور سات جنوری کو کرسمس مناتے ہیں، یہ بھی واضع رہے دس ماہ سے جاری روس یوکرین جنگ میں یہ پہلا سیز فائر ہے ۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سربراہ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرین میں 36 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے ۔سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہا کہ یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ امن کی جگہ نہیں لے سکے گا۔(یو این آئی)