عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی// مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کی ایک سینئر افسر نے بدھ کے روز کہا کہ ایل پی جی سلنڈروں کی گھبراہٹ میں بکنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور گھریلو صارفین کے لیے معمول کے مطابق ڈھائی دن میں سپلائی برقرار ہے۔وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارت کی خام تیل کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت خام تیل کی فراہمی آبنائے ہرمز کے علاوہ متبادل راستوں سے بھی حاصل کی جا رہی ہے۔وزارت کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سجاتا شرما نے کہا کہ کھانا پکانے کے گیس سلنڈروں کی گھبراہٹ میں بکنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور گھریلو صارفین کے لیے عام سپلائی کا دورانیہ اب بھی تقریباً ڈھائی دن ہے۔انہوں نے کہا’’کچھ اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ غلط معلومات کی وجہ سے کچھ جگہوں پر گھبراہٹ میں بکنگ اور ذخیرہ اندوزی کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ گھریلو ایل پی جی کی عام ترسیل تقریباً ڈھائی دن میں ہو جاتی ہے، اس لیے صارفین کو جلدی میں سلنڈر بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘‘۔وزارت کے مطابق ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات کریں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت تقریباً 40ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مختلف ذرائع سے خام تیل کے کارگو حاصل کیے ہیں اور اس تنوع کے نتیجے میں اب بھارت کی تقریباً 70 فیصد خام تیل درآمدات آبنائے ہرمز کے علاوہ راستوں سے آ رہی ہیں، جبکہ پہلے یہ شرح تقریباً 55 فیصدتھی۔سجاتا شرما نے مزید بتایا کہ اس وقت ایل این جی کے دو کارگو بھارت کی طرف روانہ ہیں جو آئندہ چند دنوں میں پہنچ جائیں گے، جس سے ملک میں توانائی کی سپلائی مزید مضبوط ہو جائے گی۔