محمد تسکین
بانہال//ویٹرنز ڈے کی ملک گیر تقریبات کے تحت فوج کی ڈیلٹا فورس کی جانب سے ضلع رام بن کے میتراہ علاقے میں ایک خصوصی ویٹرنز میٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا مقصد ضلع رام بن سے تعلق رکھنے والے سابق فوجیوں، ویر ناریوں اور ویر انگناؤں کی فلاح و بہبود، مسائل کے ازالے اور ان کے ساتھ مضبوط تعلق کو مزید مستحکم کرنا تھا۔اس موقع پر 200 سے زائد سابق فوجیوں، ویر ناریوں اور ویر انگناؤں نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شرکت کی۔ یہ اجتماع حاضر سروس فوجیوں اور ریٹائرڈ جوانوں کے درمیان مضبوط، دیرینہ اور باوقار رشتے کی عکاسی کرتا نظر آیا۔ تقریب کے دوران سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لئے سول انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور اسکیموں کو بھی اجاگر کیا گیا۔تقریب کی صدارت میجر جنرل اے پی ایس بال، سینا میڈل، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) ڈیلٹا فورس نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’سپاہی کا دھرم صرف فعال سروس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال اور قومی تعمیر میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے‘۔ انہوں نے سابق فوجیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو قوم کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ویٹرنز میٹ نے سابق فوجیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں وہ ایک دوسرے سے دوبارہ جْڑ سکے، اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکے اور فلاحی منصوبوں پر گفتگو کر سکے۔ اس موقع پر مختلف فلاحی اور خدماتی اسٹال قائم کئے گئے، جہاں جامع سہولیات فراہم کی گئیں۔ طبی سہولیات کے تحت فوجی ڈاکٹروں اور ضلع ہسپتال رامبن کے نمائندوں نے طبی معائنہ، خون کے ٹیسٹ اور آنکھوں کی جانچ کی۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا، آئی سی آئی سی آئی اور جموں و کشمیر بینک کے افسران نے سابق فوجیوں کو مالی رہنمائی فراہم کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے فوائد، پنشن اور ڈیفنس سروس پیکیج اکاؤنٹس سے متعلق جانکاری دی۔ ضلع انتظامیہ کے افسران کی موجودگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی شکایات کو موقع پر ہی سنا اور حل کیا جائے، جو فوج اور سول انتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل کا مظہر ہے۔رام بن ضلع انتظامیہ، محکمہ سماجی بہبود اور این آر ایل ایم/اْمید کے نمائندوں نے سرکاری فلاحی اسکیموں، روزگار کے مواقع اور سماجی بہبود کے پروگراموں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ فوج کے شکایت ازالہ نظام، بشمول ای سی ایچ ایس، اسپارش اور دیگر فلاحی سیلز بھی موجود رہے تاکہ مسائل کو شفاف اور مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔تقریب کے دوران ویر ناریوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا اور ان کی قربانیوں، حوصلے اور قومی وقار میں ان کے اہم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ آخر میں موجود صحافیوں کی عزت افزائی کے طور پر انہیں توصیفی اسناد سے نوازا گیا جبکہ سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو فوج کی جانب سے تحائف بھی پیش کیے گئے۔ ویٹرنز میٹ نے اس پیغام کو مضبوط کیا کہ بھارتی فوج اپنے سپاہیوں کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔