اردو زبان کی خوبی ہے کہ یہ کسی مخصوص خطے یا علاقے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ زبان دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے اور برصغیر ہندوپاک سے باہر اردو کی نئی نئی بستیاں بسی ہوئی ہیں۔اس زبان کے چاہنے والے وہ لوگ بھی ہیں جن کی یہ مادری زبان نہیں ہے۔دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی اردو زبان کے چاہنے والے، پڑھنے والے، لکھنے والے اور اس کی روز بروز ترقی کے خواب دیکھنے والے موجود ہیں۔ دور حاضر میں جموں و کشمیر کی جن شخصیات نے اس زبان کو اپنا اوڑھنابچھونا بنایا ہے، ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری کا ہے۔جس طرح امیر خسرو کو طوطی ہند کہا گیا، میر تقی میر خدا سخن کہلائے،راشد الخیری مصور غم اور چند کو چلتا پھرتا گاؤں کہا گیا، داغ بلبل ہزار داستان کے خطاب سے سرفراز ہوئے، خواجہ حسن نظامی کو مصور فطرت کا لقب ملا، ریاض خیر آبادی کو خمریات کا امام تصور کیا جانے لگا اسی طرح ڈاکٹر توحیدی کشمیری "سفیرمسکراہٹ" کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ اس مناسب سے ان پر کئی مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں۔لفظ مسکراہٹ ان کا تکیہ کلام بن گیا ہے۔اظہار رائے کرنی ہو یا تبصرہ، تشریح کرنی ہو یا تنقیدی بصیرت سے فن پارے کے اسرار و رموز کھولنے ہوں، اکثر اپنی بات قابل قدر انداز میں پیش کرنے کے بعد آخر پر ضرور لفظ مسکراہٹ لکھ دیتے ہیں۔ مسکراہٹ پھیلانے کے سبب توحیدی صاحب ادبی حلقوں میں بہت معروف ہوئے ہیں۔ان کا اصل نام ریاض احمد بٹ ہے۔ہندوارہ کے ایک گاؤں وڈی پورہ میں یکم دسمبر 1973 ء کو پیدا ہوئے۔پیشے سے محکمہ تعلیم میں بحیثیت لیکچرر(اردو) اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ادبی حلقوں میں بطور فکشن نگار اور تنقید نگار جانے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری نہ صرف علامتی افسانے کا معتبر نام ہے بلکہ ایک اعلی پائے کے ناقد، اقبال شناس، کالم نویس بھی ہیں۔گاہے گاہے شاعری بھی کرتے ہیں۔ان کے افسانوی مجموعوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں جوکہ اپنے علامتی ناموں "کالے پیڑوں کا جنگل"اور "کالے دیوؤں کا سایہ"کی وجہ سے زبان زد عام ہیں۔تنقیدی و تحقیقی کاموں میں "جہان اقبال" ، "ڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبال شناس"اور "معاصر اردو افسانہ…تفہیم وتجزیہ" شامل ہیں۔ان کے ایڈیشن کشمیر، دہلی اور پاکستان میں بھی چھپ چکے ہیں۔ تخلیق،تحقیق اور تنقید کے علاوہ اپنے سماجی، اخلاقی اور اصلاحی کالموں سے سماج اور انسان میں پائے جانے والی برائیوں،خامیوں اور کوتاہیوں کی طرف دلچسپ اور موثر انداز میں اظہار خیال کرتے ہیں اور ساتھ ہی حوصلہ افزا اور مثبت پیغام سے قارئین میں شمع امید روشن کرتے ہیں۔مدعا یہ ہوتا ہے کہ اس برائی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے اور انسانیت کے پھول کھل کھلائیں۔ ڈاکٹر توحیدی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔تحریری اور تدریسی کام کے علاوہ کئی اداروں اور ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں۔مولانا آزاد اردو یورنیورسٹی حیدرآبادکے ایم اے اردو کرنے والے طلباء کے کونسلر،انٹرنیشنل ینگ اسکالرس ایسوشین کشمیر چپٹر کے کاڈینیٹر،انجمن علم وادب اور ساوتھ ایشین کلچرل سوسائٹی آف شکاگو کے چئیرپرسن، انہماک انٹرنیشل فورم اور عالمی اردو فکشن کے معاون ایڈمن اور جریدہ انہماک انٹرنیشنل (پاکستان) کے معاون مدیر اور اعزازی مدیر کی حیثیت سے مختلف رسائل و جراید سے منسلک ہیں۔
سوشل سائٹس کے اہم ادبی فورمز اور ویب سائٹس پر ان کی تحریریں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ اردو کی معروف و مقبول ویب سائٹ ریختہ ڈاٹ کام اور اردوفکشن ڈاٹ کام پر ان کے افسانے،افسانچے اور نظمیں دستیاب ہیں۔ ان کے کئی مشہور افسانے مختلف سائٹس پر موجود ہیں۔جن میں گلوبل جھوٹ، جنت والی چابی،سفید ہاتھی،کالے پیڑوں کا جنگل،سفید جنگ،کالے دیوؤں کا سایہ،گلہ قصائی،کالاچوہا،تیسری جنگ عظیم سے قبل، کبوتر آباد، چھوڑ دو، گمشدہ قبرستان اور مائیکروفکشن میں گلابی کشتی، خوف کا ڈر،نظموں میں "اپنوں کی تلاش"، "اسے کہنا دسمبر آیا ہے"، "بابا کتا روتا رہا"، "شناخت کا مینار"، " یہی زندگی ہے"،" کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے"،وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی نظموں میں کشمیر کا درد و کرب سمٹ کر آگیا ہے۔نظموں میں "اسے کہنا دسمبر آیا ہے"اور"کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے" کافی مقبول ہو چکی ہیں۔ڈاکٹر توحیدی اگر صرف افسانہ نگار ہوتے تب بھی اتنے ہی مشہور و معروف ہوتے اور اگر ان کی تنقیدی نگارشات ہی سامنے آتیں،تب بھی ڈاکٹر ریاض توحیدی جس مقام پر ہیں اسی مقام پر فائز نظرآتے۔ فکشن میں بطور افسانہ نگار اور تنقید میں بطور ناقد اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ نئے اسکالرس اور قلم کاروں کی ہمیشہ محبانہ راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
ان کی تخلیقات اور مضامین کشمیر کے معروف اخبارات،کشمیر عظمی، تعمیل ارشاد،چٹان، شہربین، اور دیگر رسائل و اخبارات کی زینت ہی نہیں بنتے بلکہ ملک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کے رسائل و جرائد، جن میں اردو دنیا(قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی)، ندائے گل (پاکستان)، ایوان اردو (اردو اکادمی دہلی)، بازیافت (شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی)، شیرازہ (کلچرل اکیڈمی سرینگر)، رسالہ سخن (فیصل آباد)،اقبالیات (اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیریونیورسٹی)، جہان اردو (دربھنگہ)، تحریک ادب (وارانسی)، تریاق (ممبئی)، ثالث (پٹنہ)، تحریر نو (ممبئی)، تسطیر (پاکستان)،ادب وثقافت (امریکہ) احساس (جرمنی)، قرطاس (برطانیہ)، آجکل (دہلی)، نگینہ انٹرنیشنل (سرینگر)، تحقیقی زاویے (بھمبریونیورسٹی آزاد کشمیر) وغیرہ میں اہتمام سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ان کے افسانے اور افسانچے انگریزی اور تامل زبان میں ترجمے ہوچکے ہیں۔خداداد صلاحیتوں کے مالک اور زود نویس ہیں، کسی بھی موضوع میں بند نہیں۔ان کے معاصر افسانہ نگاروں کے افسانوں پر تبصروں اور تجزیوں،معاصر غزل گو شعراء کی غزلوں اور نظموں کی تشریح اور توضیح،کتابوں پر تبصروں اور تنقید آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مسلسل لکھتے ہیں اور آئندہ بھی قوی امید ہے کہ یوں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اردو ادب کے سرمایہ میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ان کی تحریرات کو پڑھ کر دل شاد ہوتا ہے کہ بقول مرزا غالبؔ:
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
(نوٹ :یہ تعارفی سلسلہ کشمیر کے عصری ادباء وشعراء کی شخصیت اور ادبی خدمات کے لئے مختص ہے)
������