اپنے ذہن کو ہر حالت میں پر سکون رہنے کی تعلیم دو۔
مکمل ہونے تک ہر کام مشکل لگتا ھے۔
اگر آپ کا دل پر سکون ہے تو آپکو کوئی چیز پریشان نہیں کر سکتی۔
زیادہ سوچنا آپکے سکون کو ختم کردیتا ہے۔
پیسہ انسان کی بدترین ایجاد ہے مگر انسانی فطرت پرکھنے کے لیے قابل اعتماد مواد ہے۔
اپنے دل کی پیروی کرو لیکن اپ دماغ کو ساتھ رکھ کر۔
ماضی کی بنا پر لوگوں کے بارے میں رائے قایم نہ کرو کیونکہ لوگ سیکھتے ہیںاور آگے بڑتےہیں۔
آپ اپنی خوشی کے ذمہ دار خود ہو، اگر اپنی خوشی کی امید دوسروں سے لگائے بیٹھوگے توہمیشہ مایوسی ملے گی۔
اگر آپ منفی صورتحا ل میں مثبت سوچ رکھوگے تو جیت آپکی ہوگی۔
جب کسی سے غلٖطی ہوجائے وہ کام مت بھولو جو انہوںنے اچھے کئے ہوں۔
اپنے دوستوں کو دل سے پیار کرو نہ کہ اپنے مزاج یا ضرورت کے حساب سے۔
انسانی ذہن کوئی کوڈا دان نہیں جس میں غصہ، نفرت اور حسد رکھا جائے۔البتہ یہ وہ خزانہ ہے جس میں خوشیاں اور خوبصورت یادیں سنبھالی جاتی ہیں۔
دنیا میں ذہنی سکون سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے ۔
خاموشی اور مسکراہٹ دوطاقتور ہتھیار ہیں۔
خاموشی بہت سی مشکلوں سے بچنے کا راستہ ہے جبکہ مسکراہت بہت سی مشکلوں کو حل کرنے کا راستہ ہے۔
اہنکار (انا) کبھی سچائی قبول نہیں کرتی۔
بیوقوف کا تعارف یہ ہے کہ وہ سچائی جاننے اور دیکھنے کے باجود جھوٹ پر یقین کرتا ہے۔
ایک برا دور آنے سے پوری زندگی ختم نہیں ہوتی۔
آپکی زندگی آپکے کئے گئے فیصلے کا عکس ہے۔ اگر آپ اس کو بدلنا چاہتے ہو تو کچھ اور منتخب کرلو۔
آپکا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ آپ کا رد عمل مسئلہ ہے۔
آپ کی خوشی کا دارومدار آپکی سوچ کے معیار پر منحصر ہے۔
�������