فنڈس کی کمی کی وجہ سے تقریباً 20فیصد آر ٹی سی اور سمارٹ بسیں بیکار
بلال فرقانی
سرینگر //جموں و کشمیر میں خواتین کے لیے مفت بس سروس کو بہت زیادہ اپنایا گیا ہے، جس میں 10 مہینوں (اپریل 2025 سے جنوری 2026) تک 1.66 کروڑ سے زیادہ مفت سواریاں لی گئیں، جس پر حکومت کو 47 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت آئی۔ اس اقدام کی وجہ سے آر ٹی سی اور ای-بس خدمات پر اہم مالی دبائو پڑا ہے، جس کے نتیجے میں زیر التوا معاوضے کی وجہ سے دیکھ بھال کے مسائل جیسے آپریشنل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔فروری 2026 تک، 1.66 کروڑ سواریاں لی گئیں، جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت 47.42 کروڑ روپے بنی۔ اس سکیم میں مبینہ طور پر روزانہ تقریبا ً20 لاکھ روپے کا نقصان ہورہا ہے جس سے محکمہ ٹرانسپورٹ پر زبردست مالی دبا ئوپڑا ہے۔: حکومت کی طرف سے بروقت فنڈز کی کمی کی وجہ سے، سرینگر میں کچھ الیکٹرک بسیں دیکھ بھال کے مسائل کی وجہ سے گرائونڈ کر دی گئی ہیں۔سکیم میں آر ٹی سی کی ڈیزل بسوں اور سمارٹ سٹی ای بسوں دونوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جو یونین ٹیریٹری میں خواتین کے لیے مفت سفر فراہم کرتی ہے۔سروس نے کام کرنے والی خواتین اور طالب علموں کے لیے نقل و حرکت میں بہتری لائی ہے، لیکن طویل مدتی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی پر نظرثانی کے مطالبات پربھی ہورہے ہیں۔فی الوقت سرکار کو بہت بڑا گھاٹا بردارشت کرنا پڑرہا ہے۔آر ٹی سی بس سروس میں 35 لاکھ خواتین نے سفر کیا ہے جس پر20کروڑ کا خرچہ آیا۔شہروں میں سمارٹ سٹی سروس سے ایک کروڑ 31لاکھ خواتین نے سفر کیا، جس پر 27کروڑ کا خرچہ آیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں مزید بسیں چلائی چائیں گی اور دہی علاقوں میں بھی چلانے کی کوشش کی جائیگی۔جموں و کشمیر میں 1980کی دہائی میں حکومت کی جانب کالج طلبا کیلئے نصف کرایہ رکھا گیا تھا۔یہ حکومتی رعایت کئی برسوں تک جاری رہی۔جب تک کشمیر موٹر ڈرائیورس( کے ایم ڈی) اور آر ٹی سی گاڑیاں ہر روٹ پر چلتی رہیں طلبا کیلئے یہ رعایت بھی جاری رہی لیکن بعد میں جب گاڑیوں کے فلیٹ کم ہوگئے اور چھوٹی گاڑیوں نے انکی جگہ لی تو یہ رعایت بھی ختم ہوگئی۔
آر ٹی سی
آر ٹی سی میں 2019 اور 2024 کے آس پاس شروع کی گئی ٹاٹا موٹرز کی بہت سی گاڑیاں بیکارہیں۔آر ٹی سیای بسوں کا 50% سے زیادہ بیڑا غیر فعال ہے، جوخاص طور پر جموں اور سرینگر کے نیٹ ورکس کو متاثر کر رہا ہے۔فنڈز کی کمی سے کارپوریشن کو شدید مالی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں اسپیئر پارٹس کی کمی ہے۔تکنیکی عملے کی کمی نے مرمت کی کوششوں میں مزیدرکاوٹ ڈالی ہے۔ خواتین کے لیے “زیرو ٹکٹ” کی پالیسی، نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے لیے آمدنی میں مزید کمی کی ہے اور مالیات کو دبا ئومیں لایا ہے۔ جموں میں، کل بیڑے میں سے صرف 8-10 بسیں فی الحال کام کر رہی ہیں۔آر ٹی سی ناقص کمپریسرز، ٹوٹے ہوئے یونٹس، اور اسپیئر پارٹس کی کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، جو “گرین موبلٹی” اقدام میں رکاوٹ ہے۔