سمت بھارگو
راجوری //خطہ پیر پنچال کے ضلع راجوری اور پونچھ میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ دریاؤں اور نالوں میں پانی حدِ خطرہ سے اوپر بہنے لگا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے۔ محکموں کی جانب سے مسلسل وارننگ دی جا رہی ہے جبکہ انتظامیہ نے نچلے علاقوں کے لوگوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو بھی دن بھر بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر صورتحال سیلابی شکل اختیار کر گئی۔ سب سے زیادہ خطرناک صورتحال سْکتھو ندی میں دیکھنے کو ملی جہاں پانی انتہائی تیزی کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث دریا اور ندی نالے اب قہر ناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اگر بارش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ مسلسل بڑھتے پانی کی سطح نے نہ صرف لوگوں کی روزمرہ زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ ان کے جان و مال کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ بعض دیہاتوں میں لوگوں نے اپنے مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے ہیں۔سب سے بڑا نقصان جموںراجوری۔پونچھ نیشنل ہائی وے کو پہنچا ہے۔ منجاکوٹ کے نیالی مقام پر ایک بڑی لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں سڑک پر بھاری پتھر اور مٹی آگری جس سے ٹریفک کی آمد و رفت مکمل طور پر متاثر ہوئی۔ کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ شام کے وقت محکمہ مشینری نے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا تاکہ سڑک کو بحال کیا جا سکے۔صرف ہائی وے ہی نہیں بلکہ ضلع راجوری اور پونچھ کی کئی اندرونی سڑکیں بھی بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ متعدد دیہات آمد و رفت سے کٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں بلکہ مریضوں اور طلبہ کو بھی شدید دقتوں کا سامنا ہے۔ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں پونچھ تا مینڈھر سڑک سوکا کٹھہ مقام پر کئی گھنٹوں تک بند رہی جس سے مقامی ٹرانسپورٹ اور مسافر دونوں پریشان ہوئے۔ گاڑیوں کے نہ چلنے کی وجہ سے لوگوں کو میلوں پیدل سفر کرنا پڑا۔پونچھ قصبے کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک رہی۔ قصبے کی متعدد گلیاں اور رہائشی علاقے زیرِ آب آگئے۔ گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کے قیمتی ساز و سامان کو نقصان پہنچا جبکہ کئی چھوٹی دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بارش اور پانی کی زد میں آگئے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے فوری راحتی اقدامات کرنے اور پانی کی نکاسی کے بہتر انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر منجاکوٹ اور مینڈھر کے دیہی علاقوں میں بجلی کا نظام بھی شدید متاثر رہا۔ کئی دیہاتوں میں ٹرانسفارمر اور بجلی کے کھمبے بارش کی زد میں آکر ناکارہ ہوگئے جس سے علاقے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ محکمہ بجلی نے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا کام شروع کیا ہے، مگر مسلسل بارش کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔مقامی سماجی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو بڑے پیمانے پر عوامی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ضلع انتظامیہ کو اضافی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف پہنچایا جا سکے۔