ڈوڈہ //کشمیر عظمیٰ میں شائع خبر 'کالنء دریا پر ہونڈا کے نزدیک مقامی لوگوں کی طرف سے ذاتی رقم سے پل کی تعمیر' شروع کرنے کے معاملہ کو انتظامیہ نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فنڈس واگذار کرنے کی سفارش کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کی ہدایت پر ضلع انفارمیشن آفیسر نے اس معاملہ کی ایس ڈی ایم ٹھاٹھری سے رپورٹ طلب کی۔ سب ڈویڑنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر نے اپنی رپورٹ میں کشمیر عظمیٰ میں شائع خبر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کو پل کی عدم دستیابی سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈی سی کے نام لکھی گئی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ علاقہ سے کئی وفود نے آج تک متعدد بار انتظامیہ سے رجوع کیا جس پر اسوقت کے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر 33.82 لاکھ کی لاگت سے محکمہ دیہی ترقی نے ڈی پی آر تیار کیا تاہم فنڈس کی عدم دستیابی سے پل کی تعمیر وقت پر نہ ہو سکی ۔رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ آج تک کئی افراد اس عارضی پل سے گر کر دریا میں بہہ گئے ہیں جبکہ ایک پٹواری و وی ایل ڈبلیو کو مقامی لوگوں نے کافی دور جاکر دریا سے زندہ نکالا تھا۔ ایس ڈی ایم نے پل کی تعمیر کے لئے فنڈس فراہم کرنے کی ڈپٹی کمشنر سے سفارش کی۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر نے کہا کہ عنقریب پل کی تعمیر پر کام شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فنڈس کی کمی کے باعث کام میں تاخیر ہوئی جس سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا تاہم، انہوں نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی طرف سے جلد پل کی تعمیر کے لئے فنڈس کو منظوری دی جائے گی۔