اٹلی//اٹلی میں عوامی جماعتوں کی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کے باعث صدر کی جانب سے سادگی کے حامی ماہر معاشیات کی، الیکشن سے قبل ٹیکنوکریٹ حکومت چلانے کے لیے تقرری کے بعد ملک میں سیاسی افراتفری بڑھ گئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا کی جانب سے یورپی یونین پر سخت تنقید کرنے والے پاؤلو ساوونا کی بطور وزیر معاشیات درخواست ویٹو کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ مخالف ’فائیو اسٹار موومنٹ‘ اور انتہائی دائیں بازو کی ’لیگ‘ طیش میں آگئیں اور انہوں نے اپنے نومنتخب وزیر اعظم کو حکومت بنانے سے روک دیا۔53 سالہ وکیل اور سیاسی غیر تجربہ کار جوزپے کونٹے نے کہا کہ ’میں تبدیلی کی حکومت بنانے کے لیے اپنے مینڈیٹ سے دستبردار ہوگیا ہوں۔‘نومنتخب وزیر اعظم کے اس فیصلے کے بعد اٹلی، مارچ میں ہونے والے غیر فیصلہ کن الیکشن کے تقریباً تین ماہ بعد سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔صدر سرجیو ماتاریلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاؤلو ساوونا کے علاوہ وزارتوں کے لیے تمام تجاویز منظور کرلی، کیونکہ ساوونا یورو کو ’جرمن پنجڑا‘ قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق اٹلی کو ’ضرورت پڑنے پر‘ ایک کرنسی کے استعمال سے نکلنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔فائیو اسٹار اور لیگ کے رہنماؤں لوئیجی ڈی مایو اور ماتیو سَلوینی نے صدر کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے جرمنی، ریٹنگ ایجنسیوں اور فنانشل لابیز کی مداخلت قرار دیا۔سرجیو ماتاریلا نے پیر کے روز ماہر معاشیات اور عامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے کارلو کوٹاریلی کو بات چیت کے لیے طلب کیا اور عارضی ٹیکنوکریٹ حکومت کی بھاگ دوڑ ان کے حوالے کی، جس کے بعد موسم خزاں میں اٹلی میں نئے انتخابات کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔