راجوری// اپنی پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حد بندی کمیشن عمل سے دور رہ کر بی جے پی کوسہولت فراہم کرتی ہے۔چوہدری ذوالفقار علی نے کہاکہ ’’ ہمارا خیال ہے کہ نیشنل کانفرنس جس طرح سے حد بندی کمیشن میں شمولیت کا بائیکاٹ کیا ہے ، وہ کسی بھی علاقائی سیاسی پارٹی کی شمولیت کے بغیر اسمبلی حلقہ بندی کے ذریعے دائیں بازو کی سیاسی جماعت کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے میں مدد دینا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے موقف ،جموں و کشمیر کے بے گناہ لوگوں کے مستقبل پر ایک بار پھر سمجھوتہ ہے ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ’’نیشنل کانفرنس لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جوکہ تین پارلیمانی ممبران ہونے کے باوجود جموں وکشمیر کے لوگوں کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہی ہے،ایسا لگتا ہے کہ خفیہ طور بی جے پی کے ساتھ اِنہوں نے معاہدہ کیا ہے کہ وہ اُن کے لئے کوئی مشکل کھڑی نہیں کریں گے اور اُنہیں عوامی خواہشات کے مطابق کام کرنے کی اجازت دے دی ہے، حد بندی کمیشن کا بائیکاٹ کرنے کی کوئی جوازیت نہیں جب آپ کے پاس لوگوں کی نمائندگی کرنے کا موقع تھا‘‘۔سابقہ وزیر نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’حد بندی کمیشن کے نتائج آنے والی نسلوں پر پڑیں گے، اُن(نیشنل کانفرنس)کے پاس موقع تھا کہ وہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرے جس کو اُنہوں نے کھو دیا، اِس کے بجائے انہوں نے لوگوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے لئے بی جے پی کو کھلی چھوٹ دے دی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ نیشنل کانفرنس نے مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ میچ فکس کیا ہے وہ سیاسی مفادات کے لئے اپنی دوستی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس قیادت کہ وہ اِس معاملہ پر اپنا موقف واضح کرئے یا اُس کے سبھی اراکین ِ پارلیمان مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ حد بندی پر نیشنل کانفرنس قیادت کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔