بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر واک فار ہیلتھ ایسو سی ایشن کی جانب سے اتوار کو’کراس کنٹری‘ دوڑ کا انعقاد کیا گیا جس میں درجنوں کھلاڑیوں اور عام لوگوں نے شرکت کی۔ دوڑ کا اغاز شہر کے جہانگیر چوک سے معروف مذہبی مقام چرار شیف تک کیا گیا۔30 کلو میٹر کی اس دوڑ میں زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی جس میں نوجوانوں کے علاوہ چند درمیانی عمر کے لوگ بھی شامل تھی۔ایسو سی ایشن کے صدر فاروق احمد ڈار نے جھنڈی دکھا کر اس دوڑ کا افتتاح کیا جبکہ اس موقعہ پر ایسو سی ایشن کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ واک فار ہیلتھ ایسو سی ایشن کے صدر فاروق احمد ڈار نے اس موقع پرکھلاڑیوں اور دیگر لوگوں کا دوڑ میں استقبال کرتے ہوئے کہا کہ تبدرست جسم ہی تبدرست دماغ کا ضامن ہوتا ہے اور تبدرست دماغ سماج کی بہتر فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکی اس ایسو سی ایشن میں عمر کی کوئی بھی قید نہیں ہے اور اس مٰن جہاں بچے اور نوجوان بھی شامل ہین وہی بزرگ شہریوں کا بھی والہانہ استقبال کیا جائے گا۔فاروق احمد ڈار نے کہا کہ دوڑ کا انعقاد نوجوانوں کی توجہ جسم کی تبدرستی اور خرافات سے دور رہنے کیلئے کیا گیا۔ڈار کا کہنا تھا کہ اس وقت سماج میںمنشیات کی لت نے نوجوانوں کو اندر سے کھوکلا کردیا ہے،جس کے نتیجے میں وہ دیگر خرافات میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے زہر سے جہاں معاشرہ تباہی کے دہانے پر پنچ چکا ہے وہی نوجوان نسل بھی اپنی سدھ ،بدھ کھو چکی ے اور کھرے اور کھوٹے میںتمیز کرنے سے رہ گئی ہیں۔ ڈار نے کا کہ انتظامیہ کے علاوہ سیول سوس ائٹی اور سماج کے ذی حس طبقے پر بھی یہ مرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس وباء سے بچانے میں اپنا رول ادا کریں۔انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو دیکھ بال اور نگہداشت میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑے اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ جسمانی تبدرستی کیلئے تیار کریں۔