بلال فرقانی
سرینگر//جھیل مانسبل میں آبی پودوں کی افزائش میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو جھیل کے پانی میں غذائی اجزا کی غیر معمولی مقدار کی واضح علامت ہے۔نیشنل گرین ٹریبونل نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ اور جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ مانسبل جھیل کے پانی کے معیار کا جائزہ لیں اور جھیل میں آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی نشاندہی کریں۔جھیل مانسبل وادی کی4بڑی جھیلوں میں شمار کی جاتی ہے،جو ماحولیاتی اور خوبصورتی کا ایک منفرد مقام ہے۔تاہم وادی کی جھیلوں اور آبی ذخائر میں آلودگی اور تجاوزات نے ایک سنگین و بحرانی صورتحال پیدا کی ہے،جس کی وجہ سے براہ راست ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جھیل مانسبل میں آبی پودوں کی موجودہ صورتحال پر کی گئی ایک تازہ تحقیق میں جھیل کے ماحولیاتی نظام سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ جھیل میں آبی پودوں کی 17 اقسام ریکارڈ کی گئیں، جو 14 مختلف نباتاتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ 2سال تک جاری رہنے والے اس سائنسی سروے کے دوران مختلف ماحولیاتی گروپوںمیں جڑوں والے تیرتے آبی پودوں میںنمایاں اضافہ پایا گیا ہے، جن کی تعداد 7 رہی۔ اس کے مقابلے میں تیرنے والے آبی پودوں کی 4 اقسام جبکہ زیر آب اور آزادانہ تیرنے والے آبی پودوں کی 3، 3 اقسام درج کی گئیں۔
مدھیانچل پروفیشنل یونیورسٹی، بھوپال کے شعبہ ماحولیاتی علوم کے محققین جہانگیر محمد ریشی، جیا شرما اور اشتیاق احمد نجار کی طرف سے ’’ مانسبل جھیل میں آبی پودوں کی تنوع اور تقسیم کی موجودہ صورتحال‘‘ پر دو سالہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جھیل میں جڑوں والے تیرتے آبی پودوں کی گھنی افزائش پائی جاتی ہے، جن میں خاص طور پر نیلمبو نیوسیفیرا (کنول) نمایاں ہے، جو اگست میں مکمل کھلنے پر جھیل کو دلکش منظر عطا کرتا ہے۔یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مانسبل جھیل میں آبی پودوں کی اچھی خاصی افزائش پائی جاتی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں پانی کے معیار میں تبدیلی، پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ، تلچھٹ جمع ہونے کے باعث جھیل کی گہرائی میں کمی، اور قریبی آبادیوں و زرعی علاقوں سے آنے والا ٹھوس کچرا اور دیگر آلودگی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سیوریج یا دیگر ذرائع سے پانی میں غذائی اجزا کی زیادتی آبی پودوں کی حیاتی کمیت اور بعد ازاں ان کی اقسام کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔ مانسبل جھیل میں ابھرنے والے آبی پودوں کی نمایاں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ جھیل کا ماحولیاتی نظام تیزی سے متاثر ہو رہا ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔افزائش میں اضافہ کوندبل، گرٹہ بل اور جروکابل میں ریکارڈ کی گئیں۔محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقامات انسانی آبادیوں کے قریب واقع ہیں اور یہاں گھریلو سیوریج سے بھرپور غذائی اجزا جھیل میں داخل ہوتے ہیں، جو آبی پودوں کی گھنی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق گھریلو نکاس آب، مقامی آبادی کی جانب سے جھیل کے کناروں پر جانوروں کا گوبر ڈالنا، اور کپڑے دھونے کیلئے براہِ راست جھیل میںصابن کا استعمال، جھیل کے پانی میں غذائی اجزا کے اہم ذرائع ہیں۔ یہی عناصر آبی پودوں کی بے تحاشا نشوونما میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مانسبل جھیل کے لیے فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق مانسبل جھیل میں ایزولا نامی آبی پودے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی افزائش جھیل کے ماحولیاتی توازن کیلئے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایزولا جھیل کی سطح پر گھنی تہہ بنا کر سورج کی روشنی کو پانی میں داخل ہونے سے روکتی ہے، جس کے باعث پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور مچھلیوں سمیت دیگر آبی جاندار متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایزولا کی غیر معمولی اضافہ پانی کے معیار کو خراب کرتی ہے اور جھیل میں یوتھروفیکیشن کے عمل کو تیز کرتی ہے، جس سے دیگر مقامی آبی پودوں کی افزائش بھی رک جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کنٹرول کے اقدامات نہ کیے گئے تو جھیل کی قدرتی ساخت اور حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نیشنل گرین ٹریبونل
نیشنل گرین ٹریبونل نے سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ اور جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کو آئندہ سماعت 22اپریل2026سے کم از کم ایک ہفتہ قبل پانی کے معیار پر کی گئی کارروائی سے متعلق سٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر کی طرف سے اس رپورٹ کی بنیاد پر نیشنل گرین ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد این جی ٹی نے’’درخواست کا جائزہ لیا اورکئی متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے۔
ماحولیاتی سائنسدان
ماحولیاتی سائنسداں اور پالیسی کنسالٹنٹ مطہرہ دیوا کا ماننا ہے کہ دستیاب شواہد کے مطابق جھیل کی صحت ‘‘صحت مند نہیں’’ اور یہ غذائی آلودگی کے واضح آثار ظاہر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ جھیل میں میکروفائٹس (آبی پودوں) پر تحقیق ہوئے ہیں، تاہم فزیکل، کیمیائی اور حیاتیاتی پہلوؤں پر جامع تحقیق نہیں کی گئی، جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے مکمل تصویر پیش کر سکتی تھی۔انہوں نے زور دیا کہ جھیل کی حقیقی حالت جانچنے کے لیے حیاتیاتی( فزیکل) تحقیق کے ساتھ ساتھ پانی کے کیمیائی اور فزیکل تجزیات بھی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت سائنسی اور انتظامی اقدامات نہ کیے گئے تو جھیل کی ماحولیاتی صحت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔