عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
غزہ //فلسطینی وزارت صحت کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے آٹھویں دن غزہ میں بمباری اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جھڑپوں کے دوران شہید ہنے والوں کی تعداد بڑھ کر 2,269 ہو گئی۔ جن میں 724 بچے اور 458 خواتین شامل ہیں،9,814افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,400 اور زخمیوں کی تعداد 3,000 ہو گئی۔جرمن وزیر خارجہ اینالینا بئربوک نے گزشتہ روز اسرائیل میں حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جہاں اسرائیل نے پانی، ایندھن اور خوراک کی سپلائی بند کر دی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کے حملے کے بعد سے لاپتا ہونے والے 14 امریکیوں کے اہل خانہ سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ ہم انہیں تلاش کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق ہر ممکن کوشش کرنے والے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنا ترجیح ہے، فلسطینیوں کی اکثریت کا حماس اور اس کے خوفناک حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس حملے کے نتائج انہیں بھے بھگتنے پڑ رہے ہیں۔فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کشیدگی بڑھ چکی ہے، دوسری جانب اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ علیحدہ تصادم کا خطرہ ہے۔’رائٹرز‘ سے وابستہ ایک ویڈیو جرنلسٹ مارا جا چکا ہے جبکہ اسرائیل کے قریب جنوبی لبنان میں سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں اے ایف پی، رائٹرز اور الجزیرہ سے وابستہ 6 دیگر رپورٹرز زخمی ہوچکے ہیں۔