سرینگر//جموں وکشمیرپولیس کے انسپکٹر جنرل کشمیرزون وجے کمار نے کہا ہے کہ شوپیان کا آپریشن بہت مشکل تھا کیونکہ جنگجوئوںنے ایک مسجد میں پناہ لی تھی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ترال میں جاں بحق کئے گئے جنگجو شوپیان آپریشن میں فرار ہوئے تھے۔پولیس کنٹرول روم میں فوج کی 15ویںکورکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس نے کہاکہ شوپیان اوترال میں ہوئے معرکوںکے دوران انصار الغزوۃ الہندنامی جنگجو تنظیم کے سات جنگجومارے گئے ،جن میں اس تنظیم کاچیف کمانڈر امتیاز شاہ بھی شامل ہے ۔انہوں نے دونوں معرکہ آرائیوں کے بارے میں میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ضلع شوپیان کے جان محلہ اورترال کے نوبگ علاقہ میں ہوئے جنگجومخالف آپریشنوں کے دوران سیکورٹی فورسزنے بہت صبروتحمل سے کام لیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام ایس ائوپیز پرعمل کیا تاکہ کسی شہری کے جان ومال کوکوئی نقصان نہ پہنچے ۔آئی جی پی نے کہاکہ جب جنگجو ایک مسجد میں داخل ہوئے توہم نے امام مسجد کواجازت دی کہ وہ مسجدمیں جاکرجنگجوئوںکوہتھیارڈالنے پرراضی کریں ۔انہوںنے کہاکہ محصورجنگجوئوںکوسرنڈر پرراضی کرنے کیلئے ہم ایک جنگجو کے بھائی کوبھی یہاں لائے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم صبح کے وقت عسکریت پسندوں کے والدین کو لے کر آئے تھے ، لیکن عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے جنگجوئوںکومسجد سے باہر نکالنے کیلئے آنسوگیس کے گولوں کااستعمال کیا ،اوراسکے بعدہوائی فائرنگ بھی کی ۔انہوںنے کہاکہ اسکے بعدہوئی جھڑپ میں جنگجومارے گئے ۔وجے کمارکاکہناتھاکہ شوپیان میں مارے گئے پانچ جنگجوئوں میں سے 2کاتعلق حزب المجاہدین ،ایک کاتحریک لبیک اور2کاتعلق انصار الغزوہ الہند سے تھا۔انہوںنے بتایاکہ ان سب عسکریت پسندوں کی درجہ بندی کی گئی تھی۔آئی جی پی نے بتایا کہ انصار الغزوۃ الہندکے اعلیٰ کمانڈر امتیاز شاہ سمیت2 جنگجو دستی بم پھینکنے کے بعد ابتدائی تلاشی کارروائی کے دوران شوپیان انکاؤنٹر جگہ سے فرار ہوگئے تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے سراغ لگالیاکہ شوپیان سے بھاگ کر دونوں نوبگ ترال میں چھپے ہوئے ہیں ،اورجمعہ کی صبح سیکورٹی فورسزنے ایک کھلے علاقے میں گھیرا تنگ کیا جہاں امتیاز اور اس کا ساتھی ہلاک ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ دونوں مقامات پرمارے گئے سات جنگجوئوںکی تحویل سے سات اے کے47رائفل اور2پستول برآمد کئے گئے ۔آئی جی پی کشمیرنے کہا کہ شوپیاں آپریشن میں مسجد کا تقدس برقراررکھاگیا اور عبادت گاہ کو بہت کم نقصان پہنچا ۔ فوج کے چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے جی او سی وکٹر فورس راشم بالی اور پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کے ہمراہ پولیس کنٹرول روم میں شوپیاں اور ترال جھڑپوں کے بارے میں کہا کہ انصار غزوۃ الہند چیف سمیت7 جنگجوں جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ فوج دو جہتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا’’یہ میرا میڈیا کے ساتھ پہلا تبادلہ خیال ہے اور میں ایک نئی تبدیلی اور نئی توانائی محسوس کرسکتا ہوں‘‘۔ پانڈے نے مزید کہا‘‘ تمام چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ایک پر امن خطہ بن جائے،تاہم جہاں باقی کشمیر پر امن ہے ، جنوبی کشمیر اور وسطی کشمیر کے کچھ حصے تشدد کے چکر دیکھ رہے ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہماری کوششیں جاری ہیں اور ہمیں عام لوگوں سے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا ’’ ہمارے نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور لوگوں کو اس رجحان کو روکنے میں ہماری مدد کرنی چاہئے۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ کچھ والدین جن کے نوجوان جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہوئے ہیں ،سے فوج نے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ ’’وہ اپنے بچوں کو واپس لائے اور ان کی باز آبادکاری کریں یہاں تک کہ اگر انہیں جیلوں میں بند رکھنے کی ضرورت بھی پڑے‘‘۔ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس سال مقامی عسکریت پسندی کا گراف زیادہ ہے تو ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال جنگجوئوںکی بھرتی بہت کم ہے۔ایک اورسوال کے جو اب میں کہ شوپیان آپریشن میں کتنے فوجی زخمی ہوئے ، جی او سی 15 کور نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک افسر سمیت 4 فوجی زخمی ہوگئے اور سبھی مستحکم ہیں۔