جموں//سرکاری سکولوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے لئے جموں و کشمیر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ترجمان اور سینئر لیڈر ٹی ایس ٹونی نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر میں 2000 سے زیادہ سرکاری سکول بی جے پی کے گزشتہ 8 سالہ اقتدار میں بند ہوئے۔انہوںنے کہا کہ حکومت کی جانب سے سالانہ ٹرانسفر مہم چلانے اور اساتذہ کو اضافی فرائض دینے سے طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ٹونی نے کہا کہ محکمہ سکول ایجوکیشن جموں و کشمیر کے اہم محکموں میں سے ایک ہے کیونکہ تعلیم معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن جموں و کشمیر حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ٹونی نے کہا محکمہ سکول ایجوکیشن کے معاملات کو سنبھالنے میں حکومت کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 8 سال میں 2000 سے زائد سرکاری سکول بند ہو چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نظام کی بہتری کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی بلکہ سخت فیصلے لے کر اداروں کو بند کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے طلباء کو دور دراز علاقوں میں واقع اسکولوں تک پیدل جانا پڑتا ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری سکولوں میں طلباء کے داخلے میں اضافے کے حالیہ دعوے کا مزید ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گورنمنٹ مڈل سکول مینڈھر میں پینتالیس میں سے صرف تین طلباء ایک معائنہ کے دوران موجود تھے اور دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے باقی 42 طلباء اسکول میں موجود نہیں تھے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ فرضی داخلوں کی کارروائی ہوسکتی ہے اور اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اگر دوسرے علاقوں میں بھی یہی طرزِ عمل اپنایا گیا ہو جس سے واضح طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں کے داخلے میں اضافہ محض کاغذی جھوٹ ہوسکتا ہے۔ ٹونی نے جموں و کشمیر حکومت کی سالانہ ٹرانسفر مہم کو لاگو کرنے میں ناکامی کو محکمہ میں بدانتظامی کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ اب اساتذہ بھی جموں و کشمیر میں احتجاج کر رہے ہیں اور اے ٹی ڈی کے آن لائن موڈ کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ٹی ایس ٹونی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعدد سرکلرز اور ہدایات کے بعد بھی سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ اور دیگر اہلکاروں کو الیکشن میں بی ایل او کی طرح اضافی ڈیوٹیاں سونپی جارہی ہیں جو کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ٹیچر کو پڑھانے کی بجائے دوسری ملازمتوں پر لگانا اسکول میں طلباء کے مستقبل کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لیے کاغذی گھوڑے دوڑانا بند کرے اور زمینی حقائق کو سمجھے تاکہ حقیقی معنوں میں صورتحال بہتر ہو اور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر ہو۔