بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں ’’جل جیون مشن‘‘کے تحت ہر گھر تک نل سے پانی پہنچانے کے منصوبے کی پیش رفت توقعات سے کہیں کم رہی ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران صرف ایک ضلع، چند بلاکوں، محدود پنچایتوں اور چند سو دیہاتوں کو ہی صد فیصد نل سے جل فراہمی کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مشن کی مقررہ ڈیڈ لائن مکمل ہونے میں اب صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں سے صرف 2 اضلاع کو ’’ہر گھر جل‘‘ ہدف مکمل کرنے کی سرٹیفکیٹ دی گئی ہے۔ تاہم ان میں سے صرف ایک ضلع ہی باضابطہ طور پر تصدیق شدہ قرار پایا ہے۔ اسی طرح 285 بلاکوں میں سے 12 بلاکوں کو مکمل نل رسائی کے زمرے میں رپورٹ کیا گیا، لیکن صرف 6 بلاکوں کوتصدیق حاصل ہو سکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے مقابلے میں 2026 تک کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم رفتار اب بھی انتہائی سست تصور کی جا رہی ہے۔ 2024 میں جہاں محدود علاقوں کو ہی سند ملی، وہیں 2026 تک تصدیق شدہ پنچایتوں کی تعداد بڑھ کر 486 اور دیہاتوں کی تعداد 885 تک پہنچی، لیکن یہ مجموعی ہدف کے مقابلے میں اب بھی ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔ریکارڈ کے مطابق جموں و کشمیر کی 4,295 پنچایتوں میں سے 671 کو صد فیصد نل رسائی کے دائرے میں لانے کی رپورٹ دی گئی، لیکن صرف 486 پنچایتوں کی ہی تصدیق ہو پائی۔ اسی طرح مجموعی 6,251 دیہاتوں میں سے 1,384 دیہات کو ’’ہر گھر جل‘‘کے طور پر رپورٹ کیا گیا، تاہم ان میں سے صرف 885 دیہاتوں کو تصدیق حاصل ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ بعض اضلاع میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی جبکہ کئی اضلاع اب بھی پیچھے ہیں۔ ضلع سرینگر واحد ضلع ہے جہاں رپورٹ شدہ تمام 115دیہاتوں کو تصدیق حاصل ہوئی۔ گاندربل میں 129 میں سے 118، اننت ناگ میں 111 میں سے 95 اور بارہمولہ میں 163 میں سے 121 دیہاتوں کو تصدیق کی گئی ہے۔اس کے برعکس جموں اور پونچھ اضلاع میں اب بھی کئی علاقے مکمل تصدیق سے محروم ہیں۔ شوپیاں، سانبہ، کشتواڑ، راجوری اور رام بن اضلاع میں پیش رفت محدود دیکھی گئی، جہاں رپورٹ شدہ دیہاتوں کے مقابلے میں تصدیق شدہ علاقوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔جل جیون مشن کے تحت تصدیق حاصل کرنے کیلئے صرف پائپ لائن بچھانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ہر گھر تک فعال نل کنکشن، پانی کی باقاعدہ فراہمی، معیار کی جانچ اور زمینی تصدیق جیسے مراحل بھی لازمی ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ رپورٹ شدہ اور تصدیق شدہ اعداد و شمار میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ہائیڈرولک ڈویژن کے ایک سابق انجینئر،اعجاز حمدکا کہنا ہے کہ اگر باقی ماندہ ایک برس میں منصوبے کی رفتار میں نمایاں اضافہ نہ کیا گیا تو جموں و کشمیر میں ’’ہر گھر جل‘‘کا ہدف مقررہ وقت میں مکمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں پانی کی قلت، دشوار گزار جغرافیہ، ناقص انفراسٹرکچر اور عملدرآمد میں تاخیر کو منصوبے کی سست رفتاری کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے پر زمینی سطح پر نگرانی سخت کی جائے، نامکمل سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور دور دراز علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ’ہر گھر جل‘ کا خواب حقیقت میں تبدیل ہو سکے۔