عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر میں حالیہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی مہم کے دوران 1.60لاکھ سے زیادہ ووٹرز کو ووٹر لسٹوں میں شامل کیا گیا جبکہ 67,690ناموں کو حذف کیا گیا اور 2.29لاکھ کی تصحیح کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع میں سالانہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی میں سب سے زیادہ حذف کیے گئے، جن میں “ڈپلیکیٹ” اور “شفٹ شدہ” اندراجات شامل ہیں۔
خصوصی خلاصہ نظرثانی کچھ ریاستوں میں کئے گئے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے الگ ہے۔موجودہ ووٹروں کے اندراج کی ضلع وار تقسیم کے مطابق، جموں ضلع میں سب سے زیادہ 11,89,555ووٹر ہیں، اس کے بعد سرینگر میں 7,53,222اور بارہمولہ میں 7,20,500 ووٹرز ہیں۔اضلاع میں، سرینگر میں 30,077 کے ساتھ سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا، اس کے بعد جموں میں 16,855اور بارہمولہ میں 11,854اضافہ ہوا۔جموں میں سب سے زیادہ 10,430 حذف کیے گئے، اس کے بعد بڈگام میں 7,762اور اننت ناگ میں 5,241ریکارڈ کیے گئے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نظرثانی کی مشق کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کل 1,60,974اضافے، 67,690حذف اور 2,29,920تصحیحات ریکارڈ کی گئیں۔ڈیٹا کے مطابق ان میں سے10,639ڈپلیکیٹ ووٹر اندراجات اور 34,675شفٹ شدہ اندراجات کا پتہ چلا اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں حذف کر دیا گیا۔جموں ضلع میں سب سے زیادہ 6,840شفٹ اندراجات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد راجوری میں 4,791اور اننت ناگ میں 3,745ہیں۔مجموعی طور پرجموں و کشمیر میں کل ووٹر 87,42,878ہیں جس میں 44,65,161مرد ووٹر، 42,77,568خواتین ووٹرز اور 149مخنس ووٹر شامل ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہ 100فیصد ووٹروں کے اندراج کو حاصل کرنے کے لئے کئی اقدامات خاص طور پر انڈر رجسٹرڈ گروپوں میں کئے جا رہے ہیں۔ان میں عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کی گئی خصوصی سمری نظرثانی بھی شامل ہے، جو اب ایک سال میں چار کوالیفائنگ تاریخوںیکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر ووٹر کے اندراج کے لیے کی اجازت دیتا ہے ۔