جموں//کمشنر سیکرٹری محنت و روزگار محکمہ سوربھ بھگت کی صدارت میں سول سیکرٹریٹ میں لیبر کوڈز کے لئے ڈرافٹ جموں و کشمیر رولز کو حتمی شکل دینے سے متعلق ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں مختلف محکموں کے سربراہان اور پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس بشمول ایڈیشنل سیکرٹریروں، سپیشل سیکرٹریوں ، ڈپٹی سیکرٹریروں وغیرہ نے شرکت کی۔ یہ بات واضح ہے کہ مرکزی حکومت نے 29 موجودہ مزدور قوانین اور ان کو چار کوڈوں بشمول کووڈس آف ویجز2019، صنعتی تعلقات کوڈ 2020، سوشل سیکورٹی کوڈ 2020 اور پیشہ ورانہ حفاظت ، صحت اور ورکنگ کنڈیشنس کوڈ 2020 میں تشکیل دیا ہے۔ مسودہ قوانین لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ (www.jklabouremp.nic.in) اور لیبر کمشنر (www.jklabour.com). کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ پچھلے مزدوروں سے متعلق قوانین جن کی وجہ سے ان کا حق تلف ہوتا تھا کو ختم کیا جائے گا مزدور طبقے کی کلہم فلاح و بہبود کے لئے بڑے پیمانے پر قوانین تشکیل دئیے جائیں گے ۔اِن قوانین میں سوشل سیکورٹی کوڈ 2020 کو عملانے کو ترجیح دی جائے گی۔سوربھ بھگت نے ستائش کی کہ جموں وکشمیر نے پہلے ان مسودہ قواعد کو تشکیل اور مطلع کیا۔ جموں و کشمیر کو یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ دہلی یونین ٹریٹری کی طرح اپنی اسمبلی قائم رکھنے کی سہولیت فراہم ہوگی ۔ان ضابطوں کے نفاذ کے ساتھ ہی خطے میں مزدوری کا شعبہ باقی قوم کے برابر ہوگا اور اس اقدام سے ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ اس سے جموں وکشمیر میں کاروبار ی عمل میں سہولیت لانے میں بھی بہتری لائی جائے گی۔ایک سٹیٹ جاب پورٹل بھی تشکیل دیا جارہا ہے جس میں نجی اور سرکاری اداروں کو ملازمت کے خالی اعداد و شمار کو شیئر کرنے کا پابند کیا جائے گا اور اس طرح ملازمت کے متلاشیوں کو ملازمت کے حصول کے لئے ایک مرکزی ڈیٹا بیس فراہم کیا جائے گا۔ان ضابطوں کی متعدد خصوصیتوں میں مرکز کے ذریعہ ملک گیر کم سے کم اجرت کا تعین ، بونس کا حساب کتاب اور ادائیگی ، پرو ریٹا کی بنیاد پر گریجویٹی کی ادائیگی ، دیگر افراد میں باضابطہ اور غیر رسمی کارکنوں کے لئے معاشی سلامتی کی ممانعت شامل ہیں ۔سوربھ بھگت نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مسودہ کا بغور مطالعہ کریں اور اپنی محکمانہ سرگرمیوں اور مشاہدات کے دائرے کے مطابق تجاویز اور اعتراضات تجویز کریں۔ اُنہوں نے ان تجاویز کو پیش کرنے کے لئے ایک مقرر مدت بھی طے کی۔