تھنہ منڈی// محکمہ سیاحت و انتظامیہ مغلیہ دور کی تاریخی اور خوبصورت عمارتوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ثابت ہو چکی ہیں جس کے نتیجہ میں ان میں سے کئی عمارتیں کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکی ہیں اور کئی جگہوں پر لوگوں نے غیر قانونی طور قبضہ کر رکھا ہے اور ان قدیم اور تاریخی عمارات کو گرا کر انکی جگہ دوکانیں اور مکان تعمیر کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں شکایت کرتے ہوئے مغل ڈیولپمنٹ فورم کے شہباز مغل، شمیم احمد مغل و دیگران نے کہا کہ مغلیہ میراث کو کھلے عام برباد کیا جا رہا ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ انکی روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ کئی سال پہلے حکومت کی طرف سے ایک قانون بنا تھا کہ ان عمارات کے ارد گرد سینکڑوں فٹ کے فاصلے تک نجی طرز کی کوئی بھی تعمیر نہیں کی جا سکتی مگر ضلع راجوری کے کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پر تعمیری کام محکمہ و انتظامیہ کے سائے تلے ہو رہا ہے جس سے یہ صاف عیاں ہوتا ہے کے محکمہ و انتظامیہ خود ہی مغلیہ میراث کو ختم کرنے میںلگی ہوئی ہے اور وہ اس ورثے کو تحفظ دینے کے بجائے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اگر انتظامیہ سنجیدہ ہوتی تو آج راجوری کی باراں دری، درہالی موڑ،ساج،کوٹ بھروٹ،تھنہ منڈی رتن پیر اور چندی مڑھ کی عمارات کی جگہ تعمیری کام نہ چل رہے ہوتے اور تعمیر کرنے والے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی ہوئی ہوتی۔انہوںنے الزام لگایا کہ محکمہ و انتظامیہ کے کہنے اور کرنے میں تضاد ہے اور وہ خود ہی اس میراث کو تحفظ نہیں دینا چاہتے ہیں۔اضلاع راجوری اور پونچھ میں مغلیہ دور کی کئی عمارات ایسی ہیں جن کو محکمہ و انتظامیہ کی بے حسی کا سامنا ہے لیکن راجوری کی یہ اہم اور قدیم عمارات جواپنے ساتھ ایک لمبی تاریخ رکھتی ہیں،کو حکومت کے عتاب کا شکار بننا پڑ رہا ہے۔عوامی حلقوں کی طرف سے کئی مرتبہ یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ مغلیہ میراث کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مغل ڈیولپمنٹ فورم و دیگر کئی غیر سرکاری تنظیموں نے لیفٹنٹ گورنر و محکمہ سیاحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان عمارات سے غیر قانونی قبضہ ہٹا کر ان قدیم اور تاریخی عمارتوں کو سیاحت کے طور پر استعمال کیا جائے کیونکہ کسی تاریخی قلعے پر فوج قابض ہے تو کہیں پر پولیس تھانہ ہے تو کئی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔انہوںنے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر محکمہ و انتظامیہ کی بے توجہی اسی طرح جاری رہی تو عین ممکن ہے کہ مغلیہ دور کی ان عمارات کا نام و نشان تک مٹ جائے گا اور یہ قدیم ورثہ کہیں کتابوں میں بھی نظر نہ آئے گا۔