تھائی لینڈ//جنوبی تھائی لینڈ میں شدید طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور بلیک آؤٹ نے تقریباً 30 ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کردیا۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پابوک طوفان کے باعث جنوبی تھائی لینڈ میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور ہزاروں افراد اور سیاح محصور ہوگئے۔ طوفان کے باعث 75 کلومیٹر (45 میل) فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں، تیز بارش اور طوفان نے ریاست کے جنوبی حصے کو نقصان پہنچایا اور بجلی کا نظام تباہ ہوگیا۔ پابوک طوفان کے باعث جنوبی پٹانی صوبے میں تیز لہروں کی زد میں آکر ایک ماہی گیر ہلاک ہوا جبکہ اس کا ساتھی مبینہ طور پر لاپتہ ہے۔ طوفان کے باعث سیاحوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور اہم سیاحتی جزیرے کوہ ساموئی، کوہ پھنگن اور کوہ تاؤ پر تیز بارش کے باعث سیاح محصور ہوگئے جبکہ ایئرپورٹ بند ہونے اور فیری سروسز معطل ہونے کے باعث بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کوہ ساموئی کے ضلعی چیف کتیپوپ روڈون نے کہا کہ ’وہاں کوئی اموات نہیں ہوئی، آج موسم کچھ بہتر ہے اور مجھے امید ہے کہ کچھ سیاحوں کی آج ہی وہاں سے واپسی ہوجائے گی کیونکہ فیریز اور فلائٹس بحال ہوگئی ہیں۔ تاہم ساحلوں پر تیراکی پر پابندی کے لیے ’ریڈ فلیگ‘ انتباہ جاری ہے جو ہر سال اس موسم کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسری جانب کوہ پھنگن جزیرے کے ضلعی چیف کریکرائی سونگتھانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ سب ختم ہوگیا ہے اور تمام 10ہزار سیاح محفوظ ہیں اور میں سکون میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جزیرے پر تیز ہواؤں کے باعث صرف معمولی نقصان پہنچا تھا۔ ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ ہفتے کو طوفان کی شدت اور ہوا کی رفتار میں کمی آئی ہے اور یہ بحر اندامن کی طرف مڑ گیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے کچھ حصوں میں بارش اور طوفان کے باعث سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔ تیز ہواؤں اور درختوں کے گرنے کے باعث درجنوں بجلی کے کھمبے گر گئے تھے اور تقریباً 2 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوگئے تھے۔ ڈیزاسٹر پریونٹیشن اینڈ مٹیگیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق ہفتے تک 30 ہزار صارفین بجلی سے محروم تھے جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ پناہ گاہوں میں موجود تھے جو سیلاب ختم ہونے اور بجلی کی بحالی کے منتظر ہیں۔