عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف وادی بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد، جموں و کشمیر حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر تعلیمی اداروں کو مارچ7 تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ طلبا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو اتوار تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر نے کہا، ہم نے مارچ7 تک اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کرے گی۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ پڑا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آٹھویں جماعت تک کے سکول دو ماہ سے زیادہ کے موسم سرما کی تعطیل کے بعد پیر کو دوبارہ کھلنے کے لیے تیار تھے۔اس سے قبل 23 فروری کو، 9ویں سے 12ویں جماعت تک کے سکولوں نے کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن کے سرمائی علاقوں میں 70 دنوں سے زائد کی موسم سرما کی تعطیل کے بعد تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی تھیں۔وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ مختلف اضلاع میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور زمینی سطح کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ادھر ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے موبائل ہائی سپیڈ انٹر نیٹ سروس کو 2جی پر رکھنے کی استدعا کے بعد اسی مطابق یکم مارچ کو فیصلہ کیا گیا لیکن اب دوسرے مواصلات میں اس کا اطلاق 4مارچ شام 8بجے تک رہے گا۔حکام کی ہدایت کے مطابق موبائل انٹر نیٹ کی بحالی بدھ کی شام 8بجے ہوگی۔