دمشق//ترک قیادت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شام کے شمال مغرب میں واقع ہزاروں کی آبادی پر مشتمل ایک شہر عفرین کا محاصرہ کر لیا ہے۔ یہ شہر ترک کے فوجی آپریشن آلیو برانچ (زیتون کی شاخ) کا اہم ہدف ہے۔جنوری میں شروع کی جانے والی اس فوجی کارروائی کا مقصد شام کی کرد ملیشیا وائی پی جی کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے، جسے انقرہ ترکی کے اندر عشروں سے جاری شورش میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھی کے طور پر دیکھتا ہے۔انقرہ یہ انتباہ کر چکا ہے کہ عفرین پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ پیر کے روز ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداغ نے کہا تھا کہ توقع ہے کہ عفرین کو جلد ہی دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا جائے گا اور مقامی آبادی کو دہشت گردوں کے ظلم و ستم اور سفاکیوں سے نجات مل جائے گی۔عفرین کی آبادی بہت زیادہ ہے جس میں بہت سے ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے شام کی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ اس شہر پر بڑے حملے سے بین الاقوامی کمیونٹی میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ ترک نائب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہاں ایک بھی عام شہری ہلاک ہوا ہے اور نہ ہی زخمی۔جنوری میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے جسے فضائی مدد بھی حاصل ہے، ترک فوجیوں نے تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور نسبتاً اسے کم جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔