استنبول//ترکی کے صدر طیب اردگان کی جانب سے 'ہنگامی بنیادوں پر' روس سے انتہائی حساس نوعیت کا ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا عندیہ دینے پر ناٹو ممالک کے مابین تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔'ڈان ' میں شائع رپورٹ کے مطابق طیب اردگان نے کہا کہ' 'ترکی کو فضائی حدود کے تحفظ کے لیے روسی ساختہ ایس 400 ایس کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں معاہدہ طے پا چکا ہے ، ہم بہت جلد خرید لیں گے ''۔واضح رہے کہ رواں اپریل میں روسی صدر ولادیمیرپوٹن نے آمادگی کا اظہار کیا تھا کہ ایس 400 ایس ڈیفنس سسٹم 2019 کے اختتام یا 2020 کے اوائل میں فراہم کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا جائے ۔ خبررساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق روس کا تیار کردہ ایس 400 ایس ڈیفنس سسٹم زمین سے فضا میں تحفظ فراہم کرتا ہے اور ناٹو ممالک ایسے اپنے جنگی جہازوں کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ماسکو سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے پر خطے میں انقرہ کی فصائی نگرانی کی صلاحیت خطے میں بڑھ جائے گی۔دوسری جانب واشنگٹن نے انقرہ کو روس سے ایس 400 ایس لینے پر خبر دار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی صورت میں امریکہ اور ترکی کے مابین عسکری صنعت کے تعاون پر برے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔طیب اردگان نے کہا تھا کہ ترکی کو بھی یوروپ اور امریکہ کی طرح دیگر ممالک سے تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے ۔واضح رہے کہ ماسکو کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ روسی صدر اپنے ترکش ہم منصب سے سہ فریقی مذاکرات میں ملاقات کریں گے ۔ترک میڈیا کے مطابق ایرانی، روسی اور ترکی کے صدر شام سے متعلق تنازع پر 7 ستمبر کو ملاقات کریں گے ۔ایران کے نجی چینل این ٹی وی کے مطابق سہ فریقی اجلاس ایران کے شہر تبری میں ہوں گے ۔دوسری جانب روس کے ترجمام ڈیمرٹی پیسکو کا کہنا تھا کہ 'سہ فریقی اجلاس تہران میں ہوں گے اس لیے یقینی طور پر روس اور ترکی کے صدر اجلاس کے دوران ہی اپنے دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے پر غور کریں گے '۔یو این آئی