عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع راجوری میں بھاجپا کی مقامی قیادت نے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے پنچایتوں کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں اراکین اسمبلی کو اضافی اختیارات دینے کے فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کی وارننگ دی ہے۔راجوری میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم ایل سی اور بی جے پی رہنما وبودھ گپتانے کہا کہ گرام سبھاؤں کے ذریعے پنچایتوں کے ترقیاتی منصوبے تیار کرنا پنچایتی راج ایکٹ کا بنیادی اصول ہے، جس کا مقصد عام عوام کی آواز کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر جمہوری نظام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے میں اراکین اسمبلی کو اضافی اختیارات دے کر پنچایتی نظام میں براہ راست مداخلت کی ہے، جس سے عوامی نمائندگی اور مقامی خود مختاری متاثر ہوگی۔وبودھ گپتا نے کہا کہ پنچایت سطح کی منصوبہ بندی میں اراکین اسمبلی کی شمولیت عوامی رائے اور گرام سبھاؤں کی اہمیت کو کم کر دے گی۔ ان کے مطابق حکومت عوامی اختیارات محدود کرکے زیادہ طاقت اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے، جو پنچایتی راج کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو بی جے پی بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گی۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔اس موقع پر سابق رکن اسمبلی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے جنہوں نے حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔بی جے پی ضلع صدر دیو راج شرمانے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر بھرپور تحریک چلانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کے دوران کسی قسم کا عوامی نقصان ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔بی جے پی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور پنچایتوں کے اختیارات کو بحال رکھتے ہوئے گرام سبھاؤں کی خود مختاری کو یقینی بنائے تاکہ مقامی سطح پر جمہوری نظام مضبوط رہ سکے۔