سرینگر //درمیانی درجہ کے شوگر اور بلڈ پریشر بیماری میں مبتلا مریض ماہ صیام میں معمولی تبدیلی کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔ بدھ سے شروع ہونے والے ماہ صیام میںشوگرکی وجہ سے امراض قلب اور گردوںکی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے علاوہ ذیبابطیس میں مبتلا حاملہ خواتین کو روزہ نہ رکھنے کی صلح دیتے ہوئے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ان مریضوںکو روزہ نہ رکھنے کی صلح دی جاتی ہے۔ ماہ صیاح کے دوران ہائی بلڈ پریشر اور شوگر مریضوں میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر بات کرتے ہوئے سکمز صورہ میں شعبہ اینڈوکرائنولوجی کے سربراہ ڈاکٹر بشیر احمد لاوے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’160 سطح پربلڈ پریشر، 300سے زیادہ شوگر اور 70ملی گرام سے کم شوگر والے افراد کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے‘‘۔ڈاکٹر بشیر لاوے نے کہا ’’ 160/100بلڈ پریشر والے مریضوں میں پانی کی کمی ہونے کی وجہ سے خون جمنا شروع ہوجائے گا َ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ایسے مریضوں کو زیادہ خطرے والے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر بشیر نے بتایا ’’ جن شوگر مریضوں کے جسم میں 70ملی گرام سے کم شوگر موجود ہو ، ایسے مریضوں کو بھی روزہ نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ روزہ رکھنے سے ایسے مریضوںکے خون میں شوگر کی مقدار مزید کم ہوجاتی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’ ان مریضوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو روزہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن روزہ رکھنے کی ضرورت میں انہیںچند باتوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا ‘‘۔ڈاکٹر بشیر نے کہا ’’ خون میں شوگر کم ہونے کی وجہ سے ان مریضوں میں پسینہ اور تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے ، جب کسی مریض میں پسینہ اور تھر تھراہٹ پیدا ہوتو انہیں فوراً روزہ توڑنا چاہئے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ خون میں 300ملی گرام شوگر ہونا بھی خطرے کی علامت ہوتی ہے اور ایسے مریض بھی زیادہ خطرے والے زمرے میں آتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ جب خون میں شوگر کی مقدار 300ملی گرام سے زیادہ ہوتی ہے تو ان میں تھکاوٹ، چکر آنا اور سر میں درد ہوتا ہے، تو اسے مریضوں کو بھی روزہ توڑ کر دوائی لینی چاہئے۔ڈاکٹر لاوے نے بتایا ’’ ان تین زمروں میں آنے والے مریضوں کو ہم روزہ نہ رکھنے کی صلح دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ایسے لوگوں کی کافی تعداد ہوتی ہے جن میں درمیانہ درجہ کی بیماریاں ہوتی ہیں، ایسے مریض ادویات میں چند تبدیلوں کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ 140/90بلڈ پریشر والے مریضوں کو بھی کوئی دشواری نہیں ہوسکتی ہے۔احتیاطی تدابیر کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر لاوے نے کہا ’’دوائی کی ٹکیہ اور انسولین لینے والے مریضوں کو روزہ کھولنے کے بعد دوائی کا پوراڈوز لینا چاہئے لیکن ایسے مریضوں کوصحری کے وقت دوائی کے ڈوز میں 50فیصد کمی کرنی چاہئے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض اگر ورزش کرنے کے عادی ہیں تو ایسے مریضوں کو دوپہر سے قبل ورزش کرنی چاہئے، بعد دوپہر کسی بھی صورت میں ورزش نہ کریں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں تراویح کیلئے جانے والے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر مریضوں کو ورزش کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ ڈاکٹر لاوے کا مزید کہنا تھا کہ مریضوں کو ہلکی سی غذا کے ساتھ افطار اور سحری کے درمیانی پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر بشیر لاوے نے کہا ’’ شوگر اور بلڈ پریشر مریضوں کو ایک ہفتہ متواتر طور پر خون میں شوگر کی مقدار پر نظر رکھنی چاہئے‘‘۔