جب وزیراعظم نریندر مودی نے وارانسی میں ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا تو بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے کہا کہ یہ اجتماع اتنا ہی بڑا تھا جتنا جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کی تقریر سننے کے لئے جمع ہوتا تھا ۔ اس ایک جملے میں انہوں نے اتنا کچھ کہہ ڈالا جو ایک بڑا دانشور ایک طویل تقریر میں بھی شاید ہی کہہ سکتا ۔یشونت سنہا واجپائی حکومت میں بی جے پی کے وزیر رہ چکے ہیں، اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ان کی اس رائے کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔شتروگھن سنہا بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہی ممبر پارلیمنٹ تھے جنہیں بی جے پی سے اس بناء پر نکال دیا گیا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صد ر امیت شاہ کے بے باک نقادوں میں شمار ہونے لگے تھے ۔وہ بھی کئی بار نرنیدر مودی کو ہٹلر کی طرح ہی مطلق العنان اور نسل پرست حکمراں قرار دے چکے ہیں ۔یہ رائے سیا ست کے ایوانوں سے نکل کر دانشور حلقوں اور کچھ مخصوص حلقوں میں بھی اپنی جگہ بنانے لگی ہے ۔ حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لینے والے ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا کہ وزیر اعظم مودی اپنی تقریرمیں کونسا لفظ سب سے زیاد ہ بولتے ہیں ۔ کئی لوگوں نے مختلف جواب دئیے لیکن بعد میں سوال پوچھنے والے نے ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’مودی ‘‘۔ اور یہ جواب سننے والوںنے اس سے اتفاق کیا کہ نریندر مودی جی اپنا ہی نام سب سے زیادہ بار اپنی تقریر میں دہراتے ہیں ۔ہٹلر بھی اپنی تقریر میں اپنا ہی نام زیاد ہ دہرایا کرتا تھا ۔ہٹلر کا خیال تھا کہ آریہ نسل کے لوگ سب سے زیادہ اہل اور تہذیبی اعتبار سے انسانی دنیا میں سب سے برتر رہے ہیں ،اس لئے انہیں ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق ہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی اور اس کی ماں آر ایس ایس کے نظریات کا سرچشمہ بھی آریائی نسلی برتری ہے۔ماضی کی نشاط ثانیہ کا خواب بڑا دلکش ہوتا ہے جو عام لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنے سحر میں مبتلا کرتاہے ۔ ہٹلر کوبھی اسی خواب نے لاکھوں انسانوں کو قربانیوں کی راہ دکھادی اور نریندر مودی بھی اسی خواب کے ساتھ کروڑوں انسانوں کو اپنا گرویدہ بنا چکا ہے۔ ہندو دھرم آریائوں کا دھر م تھا۔ ا س لئے جب ہندوستان کوایک ہندو راشٹر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اسے دوسرے لفظوں میں آریائی نسل کا ملک قرار دیا جاتا ہے ۔لیکن چونکہ آریہ بھی مغلوں کی طرح ہندوستان کے اصل باشندے نہیں تھے بلکہ اسی طرح باہر سے آئے تھے جس طرح مغل آئے تھے، اس لئے یہ تاریخی حقیقت اس تہذیبی اور سیاسی فلسفے کے پھیلائو میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کا پرچار بی جے پی اورآر ایس ایس منصویہ یند طریقے پر کررہے ہیں۔چنانچہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے آر ایس ایس نے اعلان کردیا ہے کہ آریہ اصل میں ہندوستان کے ہی باشندے تھے کہیں اور سے نہیں آئے تھے ۔تاریخ کو توڑ مروڑ کر انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا ہے ۔ یہ پرچار اب بہت زور و شور کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔یہ نئی تھیوری کہاں تک چلے گی اور کس حد تک قبولیت حاصل کرسکے گی ،یہ ایک الگ بحث ہے۔ تاریخ کی گواہی ہے کہ آریائوں نے ہندوستان پہنچنے کے بعد اس ملک کے حقیقی باشندوں کو بھگادیا تھا جبکہ مغلوں نے انہیں اپنایا تھا ۔اس تاریخی حقیقت کو تبدیل کرنے کے لئے تاریخ کی کتابوں کو کس طرح بدلا جائے گا یہ وقت ہی بتائے گا ۔فی الحال اس سوچ کے فروغ کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان کی موجودہ انتخابی جنگ اصل میںہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور آریائی نسل پرستی کے فلسفے کی جنگ ہے اور اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر اس جنگ میں اسی قوت کو جیت حاصل ہوتی ہے جو اکیسویں صدی میں بھی نسل پرستی کی سوچ رکھتی ہے تو ہندوستان اورجنوبی ایشیاء کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے ۔
حال ہی میں بی بی سی نے ہندوستان کے لوک سبھا انتخاب کے موضوع پرایک مضمون شائع کیا ہے جس میں بی بی سی کی مذہبی امور کی رپورٹر پرینکا پاٹھک نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ڈھائی ہزار سال قدیم ہندو دیو مالائی کہانی رامائن ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔ اس نے سوال کیا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا، پھر خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اپنے انتخابی منشور میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک مرتبہ پھر رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔گذشتہ انتخابات کی طرح بی جے پی کو یقین ہے کہ یہ وعدہ ہندو ووٹرز کو ان کی جانب راغب کرے گا۔ انتخابات سے قبل بی جے پی نے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کے مذہبی تہواروں کا انعقاد بھی کیا ہے۔12 اپریل کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو تنظیموں نے رام لیلا میدان میں رام کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی تھی۔ رام لیلا میدان دارالحکومت دہلی کے وسط میں واقع ہے۔کیسری یا زعفرانی پیراہن میں ملبوس اور ہاتھوں میں تلواریں تھامے لوگوں نے 'جے شری رام' کے نعرے بلند کیے تھے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کی دوبارہ تعمیر کریں گے۔آر ایس ایس حکمران جماعت بی جے پی کا نظریاتی سرچشمہ ہے اور رام مندر کی تعمیر کا آئیڈیا بیسویں صدی کے آغاز میں اس کی بنیاد بناتاہم ایک صدی کے بعد اس کونئی تحریک ملی ۔رامائن والمیکی کی لکھی ہوئی ایک رزمیہ کہانی ہے جس کا ہیرو رام عفریت کے دیوتا راون پر فتح پاتا ہے ۔ اس کہانی سے متعلق 22 زبانوں میں لگ بھگ 3000 مختلف ورژن موجود ہیں جن میں سے کچھ میں راون کی بڑائی بیان کی جاتی ہے جبکہ کچھ میں کہا جاتا ہے کہ رام کے بھائی لکشمن نے در اصل شیطان بادشاہ راون کو ہلاک کیا تھا۔سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں اس حوالے سے ایک پیش رفت ہوئی۔ سب سے پہلے رامائن کی کہانی پر مبنی ایک ٹی وی پروگرام تیار کیا گیا جس کو آٹھ کروڑ ناظرین نے دیکھا اور اس کے ذریعے اس کہانی کے ہیرو رام کے لیے محبت و عقیدت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا۔عرشیہ ستار جنوبی ایشیا کی زبانوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی ہیں اور انھوں نے والمیکی کی رامائن کا سنسکرت سے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ٹی وی پروگرام کے ذریعے انڈیا کو رامائن کا ایک مخصوص بیانیہ ملا اور اس نے ملک کو ایک ہی طرح کا مذہب دیا جو کہ پہلے بہت متنوع تھااور بہت سے تضادات سے بھرا ہوا تھا ۔ماننے والوںکا طریقہ زندگی بھی بہت مختلف تھا ۔ سنہ 1980 کی دہائی کے اختتام پر دوسری بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی جب راجیو گاندھی کی سربراہی میں سیاسی جماعت کانگرس، جو اپنے آپ کو سیکولر پارٹی کہتی ہے، نے دائیں بازو کی تنظیم ویشوا ہندو پریشد کے تعاون سے ایودھیا میں مندر کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد ہندو ووٹروں کو راغب کرنا تھا۔تاہم یہ پلان کامیاب نہ ہو سکا بلکہ اس نے سیاست کے میدان میں نووارد جماعت بی جے پی کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ہندو ووٹروں کو اپنے حق میں متحد کریں۔سنہ 1989 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر ایل کے اڈوانی نے مندر کی تعمیر کے لیے ملک گیر مہم شروع کی۔ پورے ملک سے مندر کی تعمیر کے لیے اینٹیں بھیجی جانے لگیں۔ یہ مہم مذہبی بنیادوں پر لوگوں کے جذبات کو ابھارنے میں کامیاب ہوئی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات بابری مسجد کے انہدام کی صورت میں نکلے۔ اور اس واقعہ نے ملک بھر میں فسادات کو بھڑکایا۔اس کے بعد والے انتخابات میں بی جے پی کو بڑی کامیابی ملی۔ اور وہ پارٹی جس کی بنیاد محض 12 برس قبل پڑی تھی، ملکی سطح پر بڑی جماعت بن گئی۔بی جے پی نے اتنی اہمیت حاصل کر لی کہ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں یا تو وہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی سربراہی کر رہی تھی یا حزب اختلاف کی بڑی جماعت تھی۔ بی جے پی کے لیے ایودھیا میں رام مندر کا معاملہ اپنے ہندو ووٹرز کو یکجا کرنے کا ذریعہ بنا۔2011 میں ہندو قوم پرست طالب علموں کی تنظیم اور دوسرے دائیں بازو کے گروپوں نے دہلی یونیورسٹی کو مجبور کر دیا کہ وہ تاریخ کے نصاب سے شاعر اور رامائن کے سکالر اے کے رامانوجن کے مضمون کو نکال دے۔ اس مضمون میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ رامائن کے کتنے ورژن موجود ہیں۔ٹی وی سیریل ’’رامائن ‘نے والمیکی کی راماین ،جس میں رام ہیرو ہے ،کو معتبر بنادیا اوراس کے بعد باقی تمام ورژن دب کے رہ گئے ۔ قدامت پسند ہندئوں ، جن کی مذہبی سوچ مختلف ورژنوں پر مبنی تھی،نے اس نقصان کی پرواہ نہیں کی کیونکہ انہیں لگا کہ ہندئوں کو متحد کرنے اور ہندو دھرم کے احیائے نو کے لئے یہ قربانی چھوٹی ہے ۔ آر ایس ایس اس تحریک کی نمایندہ جماعت بن گئی اور ہندو اپنے دھرم کے احیا اور عروج کے خواب کے ساتھ اس سے جڑ گئے ۔ 2014ء میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی جیت اور نریندر مودی کا سیاسی عروج اسی کا مرہون منت تھا ۔ اس کے بعد تقریباً ہر شعبے اور ادارے میں ہندودھرم کے نشاۃ ثانیہ کے لئے کام ہونے لگا ۔ اس مرکزی خیال کے ساتھ کہ رامائن کی دیو مالائی کہانی کے ذریعے ہندوئوں کو متحد کیا جا سکتا تھاجو مختلف دھارمک نظریات میں بٹے ہوئے ہیں۔اسے سائنسی طور پر معتبر بنانے کیلئے کام کیا جانے لگا ۔مثال کے طور پر ستمبر سنہ 2017 میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں متبادل ادویات کے وزیر نے تجویز پیش کی کہ 3.6 ملین ڈالر خرچ کر کے سنجیونی (آب حیات قسم کی کوئی جڑی بوٹی) کو تلاش کیا جائے۔ سنجیونی ایک افسانوی جڑی بوٹی ہے جو اندھیرے میں چمکتی ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے رام اور لکشمن کو یقینی موت سے بچایا تھا۔اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی نے دعوی کیا کہ رامائن کے وقت سائنس اتنی ترقی یافتہ تھی کہ سیتا دراصل ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ جبکہ ایک انڈین یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دعوی کیا کہ راون کے پاس ہوائی جہازوں کا ایک بیڑہ تھا۔اس نوعیت کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سیاست دانوں اور سکالرز نے کوشش کی کہ اس دیو مالائی کہانی کو مزید شہ دی جائے اور اس کی اہمیت کو قوت عطا کی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس کے ذریعے ملک کے عظیم ماضی کی یادیں تازہ کی ہیں جبکہ ماضی قدیم کے اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مستقبل میں بھی ان عظیم کامیابیوں کو دہرانے کی امید جگائی ہے۔اب یہ ایک بھر پور تحریک ہے جس کی قیادت بی جے پی کے ہاتھوںمیں ہے اور نریندر مودی جس کی علامت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے دور حکومت میں جی ایس ٹی اورنوٹ بندی کی جو مار عوام کو سہنی پڑی ہے، اس کا وہ اثر دیکھنے میں نہیں آرہا ہے جو اس تحریک کی عدم موجودگی میں ہوسکتا تھا ۔اپوزیشن سیاسی مدعوں پر الیکشن لڑرہی ہے جو اس تحریک کی موجودگی میں غیر اہم ہوکر رہ گئے ہیں ۔ہندئوں پر ماضی کی نشاط ثانیہ کا نشہ طاری ہوچکا ہے جس میں گنگا جمنی تہذیب ایک بھولی بھسری کہا نی بن چکی ہے، اس لئے کوئی معجزہ ہی بی جے پی اور نریندر مودی کو شکست سے دوچار کرسکتا ہے۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر