انسانی جسم میں اللہ تعالی نے ایسے حیرت انگیز میکانزم پیدا کیے ہیں، جن پر غور و فکر سے انسان میں شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کا ہر پہلو اپنے اندر کئی گہرائیاں سموئے ہوئے ہے۔ انسانی جسم کا ہر عضو انتہائی مستعدی سے اپنے کام انجام دیتا ہے۔ اگر جِلد کو ذرہ سی تکلیف ہو تو وہ اپنا پیغام فورا دماغ تک پہنچاتی ہے اور دماغ اپنے مخصوص طریقہ کار کے تحت اس کا احساس پورے جسم کو کراتا ہے۔ اسی طرح سننے، سمجھنے، سونگھنے، چکھنے، دیکھنے اور محسوس کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔
یہ تو ہوئی انسانی جسم کے بیرونی اعضا کی کارکردگی۔ انسانی جسم میں ایک ایسا نظام بھی ہے، جو پورے جسم کو اور اس کی کارکردگی کو متحرک اور مربوط رکھتا ہے۔ یہی نظام انسان کو ہر حالت میں زندہ رہنے اور نقصاندہ چیزوں سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ نظام کارکرد نہ ہو تو انسان سرد و گرم حالات سے نبردآزما نہیں ہوسکتا، اس نظام کی کمزوری سے انسانی جسم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے اور صحت یابی کے امکانات بھی کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ اس نظام کو مدافعتی نظام (Immune System) کہا جاتا ہے۔ مدافعتی نظام جسم کا دفاعی نظام ہے۔ یہ پورے جسم کو بیماریوں اور خطرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جس طرح کسی بھی ملک کی فوج سرحدوں پر تعینات کی جاتی ہے اور وہ ملک کی بیرونی حملوں سے حفاظت کرتی ہے، اسی طرح قوت مدافعت بھی انسانی جسم کو ہنگامی صورت اور بیکٹیریا یا وائرسس کے حملوں سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مدافعتی نظام انسانوں میں پائے جانے والا دفاعی ردعمل ہے۔ جو کسی بھی طرح کی بیماری پیدا کرنے والے ضرر رساں جراثیم(Pathogen) کو پسپا کرنے میں مدد کرتا ہے۔
کسی بھی بیماری سے مقابلہ کا کام دراصل دو مددگار دفاعی نظام کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، یعنی یہ قوت مدافعت کے دو حصے ہیں، جنہیں غیر مخصوص، فطری مدافعت (Nonspecific, Innate Immunity) اور مخصوص یا حاصل شدہ مدافعت (Specific, Adaptive Immunity) کہا جاتا ہے۔ مدافعت میں شامل یہ دونوں نظام جسم میں بیکٹیریا یا وائرس کو داخل ہونے سے روکتے ہیں اور اگر داخل ہوجائے تو ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس طرح مدافعتی نظام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گویا کہ جب جس طرح کی مدافعت کی ضرورت پڑتی ہے، تب اسی طرح کی مدافعت فوراًکارکرد ہوجاتی ہے۔
غیر مخصوص، فطری مدافعت (Nonspecific, Innate Immunity):
انسان پیدائشی طور پر فطری مدافعت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے جسم میں پہلے سے ہنگامی حالات سے لڑنے کی طاقت موجود رہتی ہے۔ یہ جسم کو تمام اینٹی جینز سے بچاتا ہے۔ یہ نقصان دہ مواد کو جسم میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ اس طرح کی رکاوٹ مدافعتی ردعمل میں دفاع کرنے کی ابتدا ہے۔ اکثر کھانسی نزلہ یا زکام ہونے کے تین یا چار دن بعد ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطری مدافعت فورا ًحرکت میں آتی ہے۔ اس طرح وہ موسمی بیماریوں سے جلد نجات حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ فطری مدافعت کو پہلے سے معلوم رہتا ہے کہ اس طرح کے بیکٹیریا یا وائرس سے کس طرح لڑنا ہے؟کیونکہ بیکٹیریا پہلے بھی بار بار جسم کو نقصان پہنچانے کے ہتھکنڈے آزما چکا ہے۔ یوں فطری طور پر کوئی بھی انسان زیادہ دنوں تک متاثر رہنے کے بجائے جلد صحت یاب ہوتا ہے۔ گویا کہ غیر مخصوص یا فطری مدافعت (Nonspecific, Innate Immunity)ہمارے جسم کے سیکیورٹی گارڈز ہیں، جو کسی بھی بیکٹیریا کے حملے کے فوری بعد متحرک ہوجاتے ہیں۔فطری مدافعت انسان کو ہلکی چوٹ لگنے یا زخم ہونے پر بھی اپنا کرار ادا کرتی ہے۔ انسان جس ماحول میں رہتا ہے وہاں انتہائی چھوٹے چھوٹے اور مضرت رساں بیکٹیریا ہوتے ہیں، جو نظام تنفس (Respiratory System) کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں، لیکن ان سے لڑنے کے لیے فطری مدافعت پہلے سے موجود ہوتی ہے اور ان بیکٹیریا کے اثر کو ضائع کردیتی ہے۔ یہ صرف عام حالات میں ہوتا ہے۔اس کے برعکس اگر کوئی وبا پھیل جائے، متعدی امراض کا خطرہ ہو یا غیر معمولی بیماری لاحق ہو تو ایسے میں انسان کو اپنی مدافعت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور اس مخصوص بیماری، بیکٹریا یا وائرس سے مقابلہ کے لیے ’’مخصوص‘‘ مدافعت کی ضرورت پڑتی ہے۔
مخصوص یا حاصل شدہ مدافعت (Specific, Adaptive Immunity):
انسانی جسم میں موجود مدافعت عموماً کسی نئے اور بڑے خطرہ سے لڑنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔ اسی لیے حاصل شدہ مدافعت انسانی جسم کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے میں مدد کرتی ہے۔ اگر انسان کسی نئی بیماری میں مبتلا ہوجائے یا کوئی خطرناک بیکٹیریا/ وائرس حملہ آوار ہو تو انسان کو اس خطرہ سے لڑنے میں وقت لگتا ہے۔ کیونکہ قوت مدافعت پہلے سے اس طرح کے سنگین خطرے یا غیر متوقع صورت حال سے واقف نہیں رہتی۔ انسانی جسم میں موجود مدافعت یا تو اس سے لڑنے کے طریقہ کار سے ناواقف ہوتی ہے یا اس سے مقابلہ کے لیے بہت وقت لگتا ہے۔ اگر کوئی شخص پہلی بار کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہوجائے تو اس سے لڑنے کے لیے مخصوص مدافعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی مدافعت اسے آگے بھی اس وائرس سے لڑنے میں مدد کرتی ہے۔ کیونکہ پہلی بار تو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ اس خطرہ سے کیسے لڑا جائے، اور اگر مدافعتی نظام اس بیماری پر قابو پالے تو اسے یاد رہتا ہے کہ اس سے کس طرح لڑتے ہیں ،اس سے کیسے محفوظ رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ وائرس دوبارہ متعلقہ شخص پر حملہ آوار ہو تو وہ اس سے بہتر انداز میں نمٹ سکتا ہے۔ یعنی مخصوص مدافعت اسے ’’پرانا دشمن‘‘ سمجھتی ہے۔
ٹی خلیے ( Cells T) کیا ہے؟
ٹی سیلز مدافعتی نظام کا ایک حصہ ہے۔ جسے مدافعتی فوج (Immune Warriors) بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ مخصوص وائرس یا نئی بیماریوں سے مقابلہ کے لیے کام آتے ہیں۔ عام طور پر کسی بھی اینٹی جن پر حملہ کرنے کے بجائے ٹی سیلز اس وقت تک گردش کرتے ہیں جب تک کہ وہ اپنے مخصوص اینٹییجن کا سامنا نہ کریں۔ اس طرح ٹی سیل بیرونی حملوں سے حفاظت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹی سیلز اس وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جب خطرناک وائرس یا متعدی امراض سے جسم کو سابقہ پیش آتا ہے۔ ٹی خلیوں کو تھائمس گلینڈ (Thymus Gland) کی وجہ سے ٹی سیلز کہا جاتا ہے۔
ٹی سیلز لیمفوسائٹس (Lymphocytes) کے زمرہ میں آتے ہیں۔ لیمفوسائٹس سفید خون کے خلیات ہیں جو جسم کے مدافعتی خلیوں کی اہم اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ زیادہ تر ہڈیوں کے گودے میں پایا جاتا ہے۔ ٹی سیلز ایک خاص قسم کے اسٹیم سیلز (Stem Cells) سے وجود میں آتے ہیں، جن کو ہیمیٹو پوئِٹک (Hematopoietic) اسٹیم سیلز کہا جاتا ہے۔یہ بننے کے بعد یہ تھائمس گلینڈ میں جاکر تکمیل کو پہنچتے ہیں۔مددگار ٹی سیلز خود سے کوئی کام نہیں کرتے لیکن یہ وائرس سے لڑنے والے ’’قاتل خلیے‘‘ کی مدد کرتے ہیں۔ سائٹوٹوکسک ٹی سیلز کا سارا دارومدار مددگار ٹی سیلز پر ہوتا ہے۔ یعنی جتنی جلدی اور جتنی زیادہ ٹی سیلز قاتل خلیوں کی مدد کرتے ہیں، اسی رفتار سے مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ وائرس سے متاثرہ خلیوں کو ڈھونڈتے اور تباہ کرتے ہیں۔
ٹی خلیوں کی اقسام
ٹی سیلز کو اپنے اپنے کاموں اور ان کی مخصوص صلاحیت کی وجہ سے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ خلیے جسم کو قوت و توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ذمہ سپرد کاموں کو بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں۔ ان سبھی کا مقصد جسم کو تندرست رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ان کے اپنے ’’پیشے ورانہ‘‘ کاموں کی وجہ سے انھیں چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ سائٹوٹوکسک ٹی سیلز(Cytotoxic T Cells) {TC}
یہ سیلز کسی بھی بیرونی حملہ آور اینٹی جن یا پیتھوجن سے مقابلہ کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی بیرونی خلیہ جسم میں داخل ہو کر انسانی جسم کو متاثر کرنے لگتا ہے تو سائٹوٹوکسک ٹی سیلز اس بیرونی خلیے میں داخل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیرونی خلیہ پھٹ جاتا ہے اور بے کام ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سائٹوٹوکسک ٹی سیلز کو قاتل خلیہ (Killer T Cells) بھی کہا جاتا ہے۔ گویا یہ خلیے انسانی جسم کو نقصان پہنچانے والے وائرس یا بیکٹیریا کو قتل کر دیتے ہیں۔
2۔ مدد گار ٹی سیلز (Helper T Cells) {TH}
مدد گار ٹی سیلز سائٹوٹوکسک ٹی سیلز کی مدد کرتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی اینٹی جن یا پیتھوجن جسم میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے مددگار ٹی سیلزلیمفوکائنز (Lymphokines) تیار کرتے ہیں۔ لیمفوکائنز مدافعتی ردعمل کو بڑھاتے ہیں اور اضافی مدافعتی خلیوں کو راغب کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ لیمفوکائنز سائٹوٹوکسک ٹی سیلز اور ٹی سیلز کو مدد فراہم کرتے ہیں۔
3۔ سپریسر ٹی سیلز (Suppressor T Cells) {TS}
یہ خلیے مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ فعال ہونے سے بچاتے ہیں۔ مدافعتی نظام میں موجود سائٹوٹوکسک ٹی سیلز (TC) اور مدد گار ٹی سیلز (TH) کی وجہ سے اینٹی جن یا پیتھوجن مرجاتے ہیں، تو سپریسر ٹی سیلز (TS) ٹی سی اور ٹی ایچ کی کارکردگی کو کم یا نارمل کردیتا ہے۔ یعنی جسم میں مدافعت کی جب اور جتنی مقدار کی ضرورت ہے اس کے لیے سپریسر ٹی سیلز معاون ہوتے ہیں، ورنہ مدافعتی نظام میں سپریسر ٹی سیلز موجود نہ ہو تو انسانی جسم کی قوت مدافعت اپنے ہی خلیوں سے نبرد آزما ہوجاتی ہے۔ سپریسر ٹی سیلز کو ریگولیٹری ٹی سیل بھی کہا جاتا ہے۔
4- میموری ٹی سیل (Memory T Cells) {TM}
یہ خلیے ایک طرح سے راز داری کا کام کرتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ کوئی بھی وائرس یا بیکٹریا جسم میں داخل ہو کر انسان کو متاثر کرنے لگتا ہے تو سائٹوٹوکسک ٹی سیلز یا مدد گار ٹی سیلز اس سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس دوران میموری ٹی سیل بیرونی حملہ آور سے مقابلہ کرنے کا طریقہ جان لیتے ہیں اور اس ’’راز‘‘ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اگلی بار وہی وائرس انسان پر دوبارہ حملہ آوار ہوتا ہے،تو میموری ٹی سیل اس حملہ آور سے مقابلہ شروع کردیتے ہیں۔ یوں میموری ٹی سیل کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
اس سب کو پڑھنے کے بعد ہمارے جسم میں موجود قوت مدافعت کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19)کے دوران تو قوت مدافعت کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کورونا وائرس کی وبا نے ہمیں اپنی قوت مدافعت کے بارے میں مزید آگہی حاصل کرنے اور اسے بڑھانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ قوت مدافعت کیسے حاصل کی جائے ، اس کے کیا طریقے ہیں؟ اس پر ماہرین کی الگ الگ رائے ہیں۔ یہ موضوع خود ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ (یہ مضمون ماہ نامہ اردو سائنس، نئی دہلی ۔ستمبر2021میں شائع ہوا ہے)