اشفاق سعید
سرینگر //پچھلے دو برسوں کے دوران کشمیری شال فرشوں یا کاروباری اور مزدوری کرنے والوں پر لگاتار حملے کئے گئے۔یہ حملے شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں زیادہ تر ہوئے اور ان میں انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل خاس طور پر پیش پیش رہی۔المیہ یہ ہے کہ دو برسوں کے دوران 60سے 70واقعات رونما ہونے کے باوجود بھی صرف 2معاملات میں باضابطہ طور پرایف آئی آر درج کئے گئے جبکہ زیادہ تر معاملات میں رسمی کارروائی کی گئی اور ملوثین کو متعلقہ تھانوں میں بلا کر چھوڑ دیا گیا۔پولیس کی جانب سے کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں کشمیریوں کیخلاف کارروائیاں شدت کیساتھ جاری رکھی جارہی ہیں۔
جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنونیئر ناصر کھوہامی نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 2مہینوں کے دوران 60سے 70واقعات رونما ہوئے ہیں اور یہ واقعات لگاتار ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک دو واقعات میں ملوثین کو سخت سزا دی جاتی تو ایسے واقعات پر روک لگ چکی ہوتی لیکن پولیس تھانوں میں انتہا پسند عناصر، جو ملک میں تفرقہ ڈالنے اور نفرت کی سوچ رکھتے ہیں، کو رسمی طور پر بلا کر انہیں چھوڑ دیا گیا ہے اور کوئی باز پرس نہیں ہوتی ہے۔کھو ہامی نے مزید کہا کہ انکی آرگنائزیشن فروری میں ایک رپورٹ سامنے لانے والی ہے جس میں ایسے سبھی واقعات کو جگہ دی گئی ہے جو صرف پچھلے دو سال کے دوران پیش آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ دائیں بازو کے عناصر کی ایک مسلسل مہم ہے جو صرف دو یا تین ریاستوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دائیں بازو کی قوتوں کی طرف سے پیدا کردہ پالیسیوں کے تحت پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔ناصر کھوہامی کا کہنا تھا کہ صرف اس سال جنوری کے 28دنوں میں 7واقعات پیش آئے ہیں، جو زیادہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ اتنے کم وقت میں اس قدر ایسے واقعات کا پیش آنا کسی منظم مہم کا حصہ لگ رہا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہوں نے ابتک کی رپورٹ تیار کی ہے، اس میں صاف نظر آرہا ہے کہ بیرون ریاستوں کی 99فیصد آبادی ایسے عناصر کیخلاف ہیں اور وہ نفرت کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرتے رہے ہیں۔کھوہامی نے مزید بتایا کہ جنوری 2026میں اترا کھنڈ، ہماچل اورہریانہ میں سات مقامات پر کشمیری شال فرشوں یا مزدوروں اور کہیں طلاب علموں کی مار پیٹ کی گئی۔انکا کہنا تھا کہ پچھلے دو سال کے دوران جو بھی معاملات رپورٹ ہوئے ان سب کے بارے میں تفصیل کیساتھ رپورٹ تیار کی جارہی ہیں، کہاں کون واقعہ پیش آیا، پولیس کارروائی میں کیا ہوا،شکایت کرنے پر بھی ایف آئی آر کہاں کہاں درج ہوئی کہاں نہیں،کتنے کیس دائر کئے گئے، کتنے لوگوں کو رسمی حراست میں لیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ دو برسوں کے دوران صرف دو جگہوں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور یہ دونوں کیس اترا کھنڈ میں ہیں۔