نیوز ڈیسک
جموں//مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ راہول گاندھی کی زیرِ قیادت کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کے جمہوری اور آئینی حقوق کا احترام کرتی ہے۔جتیندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی نے ماضی میں بھی تین یاترا منعقد کیں جن میں 11 مئی 1953 کو ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی قیادت میں کی گئی یاترا بھی شامل ہے جب انہیں جموں کے لکھن پور میں گرفتار کیا گیااور بعد میں پولیس حراست میں پراسرار حالات میں انتقال کر گئے تھے۔اُنہوں نے کہا”دوسری یاترا 1992 میں ڈاکٹر مرلی منوہر اور نریندر مودی کی قیادت میں ایکتا یاترا کے طور پرنکالی گئی تھی اور تیسری 2011 میں ارون جیٹلی اور سشما سوراج کی قیادت میں ترنگا یاترا تھی جس کو جموں و کشمیر میں اجازت نہیں دی گئی تھی، بی جے پی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا اور پنجاب بھیج دیا گیا تھا”۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کانگریس نے جبر کی پالیسی اختیار کی تھی ،اُس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے جبر کی پالیسی اپنائی تھی۔انکاکہناتھا’’ اب یہ پہلی بار ہے کہ بھارت جوڑو یاترا شروع ہوئی ہے، اور بی جے پی حکومت نے جمہوری عمل اور آئینی میراث کی پیروی کی اور اس کا احترام کیا۔ یاترا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ اب عوام اس یاترا کی قسمت کا فیصلہ کریں گے”۔
بھاجپا ’بھارت جوڑو یاترا‘کے آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کرتی ہے:جتندر سنگھ