ڈھاکہ// بنگلہ دیش میں پولیس نے ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ کو کو گرفتار کر لیا۔ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی کو اس اعلان کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جماعت وزیر اعظم شیخ حسینہ کو معزول کرنے کے لیے ہونے والے مظاہروں میں مرکزی اپوزیشن کے ساتھ شامل ہو گی۔پولیس ترجمان نے الزامات کی وضاحت کیے بغیر بتایا کہ امیر جماعت شفیق الرحمٰن کو محکمہ انسداد دہشت گردی کے افسران نے ڈھاکہ میں گرفتار کیا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر 2012 سے الیکشن لڑنے پر پابندی عائد ہے ۔ملک کی تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے ترجمان نے 64 سالہ سربراہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس کا مقصد اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کو کچلنا قرار دیا۔پبلسٹی سیکریٹری جماعت اسلامی مطیع الرحمٰن نے کہا کہ یہ گرفتاری پارٹی کے خلاف گزشتہ 15 برسوں سے جاری غیر منصفانہ سلوک اور جبر کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے ۔کئی برسوں تک جماعت اسلامی دائیں بازو جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بڑی اتحادی رہی اور ان دونوں جماعتوں کے اتحاد نے 2001 سے 2006 تک ملک پر حکومت کی لیکن 2009 میں شیخ حسینہ کے اقتدار میں آنے کے بعد جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو گرفتار کر لیا گیا۔