بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں بصارت سے محروم افراد کی روزمرہ زندگی ایک ایسی جدوجہد بن چکی ہے جس میں تعلیم، رسائی اور خود اعتمادی کے راستے بریل سہولیات کی کمی کے باعث بار بار مسدود ہو جاتے ہیں۔ جدید قوانین اور ترقیاتی دعوؤں کے باوجود نابینا طلبہ اور نوجوان آج بھی بنیادی تعلیمی وسائل سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔4جنوری کوعالمی یومِ بریل کے موقع پر سامنے آنے والی زمینی حقیقت یہ ہے کہ وادی میں نہ کوئی منظم بریل تربیتی مرکز موجود ہے اور نہ ہی بریل یا آڈیو کتب کی جامع لائبریری۔ بصارت سے محروم طلبہ کا کہنا ہے کہ اس خلا نے ان کے تعلیمی سفر کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جہاں ہر مرحلہ اضافی محنت اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں زیر تعلیم عاقب رحمان کہتے ہیں کہ بریل صرف ایک تحریری نظام نہیں بلکہ علم تک رسائی کی واحد کنجی ہے۔ ان کے مطابق آئینی اور قانونی تحفظات کے باوجود معاشرتی رویے اور سہولیات کی عدم دستیابی بصارت سے محروم افراد کو حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔انہوںنے بتایا کہ کشمیر کے بیشتر اسکولوں اور کالجوں میں ریمپس، ٹیک ٹائل راستے اور معاون تعلیمی آلات ناپید ہیں، جس کے باعث نابینا طلبہ کو کلاس روم تک پہنچنا بھی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ امتحانات کے دوران سہولتوں کا فقدان ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ ڈگری کالج اننت ناگ کے طالب علم سید حکمت حسین کے مطابق بریل میں مہارت رکھنے والے اساتذہ کی کمی نے ابتدائی تعلیم کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب رہنمائی اور تربیت دستیاب نہ ہو تو صلاحیتیں ہونے کے باوجود آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔جموں و کشمیر میں گزشتہ برس منعقد ہونے والی بریل قرآن کانفرنس جیسے اقدامات نے امید کی ایک کرن ضرور دکھائی ہے، تاہم بصارت سے محروم افراد کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک دن یا تقریب تک محدود نہیں۔ اس کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بریل کے ذریعے دینی اور عصری تعلیم تک رسائی بصارت سے محروم افراد کی زندگی بدل سکتی ہے اور انہیں باعزت مقام دلا سکتی ہے۔ان کے نزدیک بریل تک رسائی تعلیم، وقار اور خود مختاری سے جڑی ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کی کمی آج بھی وادی کے ہزاروں گھروں میں خاموشی سے محسوس کی جا رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 66 ہزار نابینا افراد موجود ہیں، تاہم سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود خطے میں نہ کوئی بریل لائبریری موجود ہے اور نہ ہی آڈیو یا ای ٹیکسٹ کتب کا منظم نظام، جس کے باعث طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یو ٹی سے باہر جانا پڑتا ہے۔کشمیر کے بصارت سے محروم افراد کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ بریل کے نقطے صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک باوقار اور خودمختار زندگی کی بنیاد بن سکیں۔