حسین و جمیل وادی ٔکشمیر جہاں اپنی خوبصورتی و رعنائی کی وجہ سے کافی مقبول و معروف ہے۔وہیں اس کی خوبصورتی کا ایک پہلو موسمِ سرما اور بالخصوص برف باری ہے۔ اگر چہ یہ اہلیانِ کشمیر کیلئے کٹھن ہے،لیکن دوسری طرف یہ کشمیر کی پہچان بھی ہے۔آبی وسائل اور زرعی ضرورت کے اعتبار سے برف باری ایک ناگزیرضرورت ہے۔ یہاں کی اکثر آبادی کاشت کاری پر ہی انحصار کرتی ہے اور اس حوالے سے سال بھر پانی کی دستیابی کی ضرورت پڑتی ہے اور پانی کا براہِ راست تعلق برف سے ہے ، لہٰذا برف باری کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔اس کے علاوہ یہاں بے شمار سیاح برفانی کھیل کھیلنے کیلئے کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔اس طرح پورے موسمِ سرما میں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جو یہاں کی معیشت کو جلا بخشتی ہے۔ان باتوں کو مد ِ نظر رکھا جائے تو برف بے شک ایک رحمت ہے۔
کشمیر کا ہر فرد خواہ وہ کوئی بھی ہو ،سب یہ جانتے ہیں کہ دسمبر سے فروری تک موسمِ سرما کا وقت ہوتا ہے۔اسی وقفے کے دوران برف باری کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔پرانے زمانے میں لوگ مصائب اور مشکلات سے بھر پور اس موسم کا سامنا کرنے کیلئے کمربستہ ہوتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی تیاری کرکے مختلف قسم کے سامان کا ذخیرہ کرلیتے تھے۔ حالانکہ اُن کے پاس سہولتیں نا کے برابر ہوا کرتی تھیں، لیکن قبل از وقت انتظامات کی مدد سے وہ اس کٹھن موسم کا بہ آسانی سامنا کرتے تھے۔جہاں تک آج کے زمانے کا تعلق ہے، آجکل کے لوگ اس حوالے سے زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ کچھ برس قبل وادی میں برف باری میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی اور چند سال ایسے ہی گزر گئے تھے جس کی وجہ سے لوگوں نے سرما اور خصوصاً "چلہ کلان" کو ہلکے میں لیا اور اس خیال میں رہتے کہ اب زیادہ برف باری نہیں ہوتی ہے۔لہٰذا اُن کی تیاری بھی ناکافی ہوتی ہے اور پھر جب برف باری ہوتی ہے تب ہمارے لئے بہت مشکلات کھڑے ہوتے ہیں اور ہمیں یہ برف باری بے وقت اور غیر متوقع محسوس ہوتی ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے ، بلکہ یہ ہماری نامکمل تیاری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ایسی صورتحال کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتی۔
کشمیر میں تعمیرات کاایک ایسا رحجان شروع ہواجو کشمیر کے باہر تو بالکل موزون ہے لیکن یہاں کے موسمی حالات کے برعکس ہے۔ایسے تعمیراتی ڈھانچوں میں رہ کر موسمِ سرما کی بے رحمی کا سامنا اچھے ڈھنگ سے نہیں کیا جاسکتا۔اگلے زمانے میں جب برف باری کی وجہ سے سڑکیں اور گلیاں مسدود ہوجاتی تھیں تو اس وقت کی مقامی انتظامیہ افرادی قوت کا استعمال کرتی تھی اور لوگ بھی رضاکارانہ طور پر روایتی انداز میں برف اٹھانے کا کام کرتے تھے ، کیونکہ اس وقت برف ہٹانے کی ایسی مشینیں دستیاب نہیں تھیں، لہٰذا اس وقت بیلچوں سے برف ہٹایا جاتا تھا اور یوں سڑکیں قابل ِ آمد رفت ہوتی تھیں، لیکن آج کل برف ہٹانے کی جدید مشینیں تو موجود ہیں جو کم وقت میں سڑکوں کو قابل ِ آمد رفت بناتی ہیںلیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور بھی کہیں کہیں اُن روایتی بیلچوں اور افرادی قوت کی ہی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ شہروں کے ساتھ ساتھ گائوں کے جو تنگ کوچے ہوتے ہیں، وہاں پر مشینیں سودمند ثابت نہیں ہوسکتی ہیں اور وہاں اکثر کچھ مکانوں کے چھتوں کا برف بھی سڑکوں پر ہی جمع ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اِن گلی کوچوں میں برف کے انبار لگ جاتے ہیں۔ایسی صورتحال میں مشینوں کے بجاے افرادی قوت ہی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ کو چاہے کہ وہ دونوں چیزوں کا قبل از وقت انتظام رکھے اور ان دونوں سے ضرورت کے مطابق استفادہ حاصل کریں۔ لوگوں کو بھی چاہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی گلی کوچوں سے برف ہٹائے اور خدا کے حضور اجر ِ عظیم حاصل کریں۔حالیہ قہر انگیز برف باری کی وجہ سے ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملی اور کئی جگہوں پر برف کو اٹھا کر ٹرکوں میں بھر دیا گیا اور بستیوں سے دور پھینکا گیا۔اس کے علاوہ جب ہم بنا تیاری موسمِ سرما گزارنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں موسم سرما ایک زحمت دکھائی دیتا ہے۔ برف باری سے نہ صرف سڑکوں میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں ،بلکہ بجلی کا بحران بھی درپیش آتا ہے۔سرینگر جموں قومی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے وادیٔ کشمیر میں غذائی اجناس کی قلت بھی پیدا ہوتی ہے۔ مزدور پیشہ طبقہ مذکورہ موسم میں بیروزگار ہوجاتا ہے۔ انہی مشکلات و مصائب کی وجہ سے کشمیری لوگ موسم سرما کو وبالِ جان سمجھتے ہیں۔
حالیہ برفباری کے دوران سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز گردش میںتھیںجن میں کچھ مکانوں کے چھت ٹوٹنے کے مناظر دکھائے گئے۔ ان واقعات سے عوامی حلقوں میں جدید فن ِ تعمیر(چھت) کی مضبوطی سے متعلق سوالات کھڑے ہوگئے۔نئے قسم کے چھت دیکھنے میں تو خوبصورت دکھائی دیتے ہیں لیکن مضبوطی کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔
موسمِ سرما کی تکلیفوں کا سامنا کرنے کیلئے ہمیں چند باتوں کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔سب سے پہلے تو ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے تاکہ کوئی بھی چیز غیر متوقع اور پریشان کْن نہ لگے۔سرما کے شروع ہونے سے پہلے ہی ضروری سازوسامان اپنے لئے مہیا رکھا جائے۔اگر استطاعت ہو تو حمام کا انتظام کر لینا چاہئے۔ چونکہ حمام کی روایت زمانہ قدیم سے ہی قائم ہے۔یہ ایک ایسا ہتھیارہے جو سردیوں میں کافی کارگر ثابت ہوتا ہے،لیکن عام کشمیری حمام قائم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، لیکن آجکل حمام بنانے کا ایک جدید طریقہ رائج ہوا ، وہ بہت ہی کفایتی ہے اور تقریباً متوسط طبقے کے لوگ ایسا حمام بنانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ عوام کو انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑا رہنا چاہیے اور ہر شخص کو ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں برف باری کبھی زحمت نہیں لگے بلکہ یہ الٰہی رحمت ہمیں رحمت کی شکل میں ہی نظر آئے گی۔
پتہ۔ستورہ ترال، پلوامہ کشمیر
موبائل نمبر۔9797013883