کنگن// سرینگرلداخ شاہراہ حیران کن طور پر ڈیڑھ ماہ قبل گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے کھولنے کے زوجیلا کے نزدیک فوٹو شوٹ کر کے اعلان تو کیا گیا لیکن بنیادی طور پر شاہراہ مکمل طور بند ہے۔گذشتہ 45روز سے قریب 154مال بردار گاڑیاں، جن میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں، مختلف مقامات پر درماندہ پڑی ہیں اور ڈرائیور انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔ لداخ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کرگل سے زوجیلا تک وجیک کنسٹریکشن کمپنی اور سونہ مرگ سے زوجیلا تک بیکن کے ذمہ ہے۔ عمومی طور پر لداخ شاہراہ یکم مئی کو کھول دی جاتی تھی اور پچھلے کئی دہائیوں سے یہی کچھ چلا آرہا تھا لیکن امسال حکام نے بہت پہلے 28کو ہی شاہراہ کھولنے کا اعلان کیا اور حتیٰ کہ اس ضمن میں زوجیلا کے نزدیک ایک تقریب بھی کی گئی جس کی تصاویر میڈیا کو دی گئیں کہ تاریخ میں پہلی بار لداخ شاہراہ کو ریکارڈ مدت میں کھول دیا گیا۔لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ لداخ شاہراہ بدستور بند ہے، اسے نہیں کھولا گیا، صرف میڈیا کی سرخیوں میں رہنے کیلئے فوٹو شوٹ کیا گیا۔سرکاری طور پر جس دن لداخ شاہراہ کھولنے کا اعلان کیا گیا اسی دن برفباری ہوئی تھی۔شاہراہ کھلنے کیساتھ ہی جموں اور نئی دہلی سے مال بردار گاڑیاں لداخ کیلئے روانہ ہوئیں لیکن یہ سبھی گاڑیاں گذشتہ 45روز سے در ماندہ ہیں۔ابھی بھی شاہراہ پر برف ہٹانے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے ، زوجیلا سیکٹر میں متواتر طور پر برفباری ہورہی ہے، برفانی تودے گررہے ہیں، پسیاں سڑک پر آرہی ہیں، تیز برفیلی ہوائیں چل رہی ہیں اور یہاں ٹھہرانا نا ممکن ہے اور نہ برف ہٹانے یا پسیاں صاف کرنے کی کوئی صورتحال نظر آرہی ہے۔لداخ شاہراہ پروسن، کلن، گگن گیر میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں درماندہ پڑی ہیں۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی ڈرائیوروں نے کہا کہ 28فروری کو انہوں نے شاہراہ کو آمدورفت کیلئے بحال کرنے کی خبر سنی، جس کے بعد انہوں نے لیہہ اور کرگل جانے کا رخ کیا ۔لیکن وہ جب وہ سونہ مرگ کے مختلف مقامات پر پہنچ گئے تو وہ ششدر رہ گئے کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں نے بتایا کہ کئی گاڑیاں ایک ماہ سے بھی زائدعرصہ سے مختلف مقامات پر کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانتہ چوک سے لیکر گگن گیر تک کم سے کم تین سو مال بردار گاڑیاں درماندہ ہیں، جن میں تیل کے سو ٹینکر بھی شامل ہیں۔اس نمائندے نے وسن کنگن میں 85ٹینکر اور15ٹرکوں کو درماندہ پایا۔اسکے علاوہ گگن گیرمیں4ٹینکر اور30 مال بردارٹرک موجود ہیں جبکہ کلن میں بھی قریب 20 ٹرک درماندہ ہیں۔ ڈی ایس پی ٹریفک رول گاندربل فہیم علی نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’ بیشک 28فروری کو شاہراہ بحال ہونے کا اعلان کیا گیا تھا‘‘۔تاہم انکا کہنا تھا کہ 28فروری سے 7 بار دوبارہ برفباری ہوئی اور سات بار شاہراہ سے بیکن اور وجیک نے برف ہٹایا ۔ انہوں نے کہا کہ زوجیلا کے بیشتر مقامات پر برفانی تودے گرنے کے علاوہ پتھر بھی گرآتے ہیں جس کی وجہ سے بیکن کو کام کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شاہراہ کو آمدورفت کے قابل بنایا جائیگا تب شاہراہ کو کھولنے سے پہلے صوبائی کمشنر افسران کی ایک میٹنگ طلب کرتے ہیں جس کے بعد شاہراہ کو آمدورفت کے لئے بحال کرنے کا فیصلہ لیا جاتا ہے۔