حصار// سنہ 2014 میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دلت خواتین کے بارے میں کی گئی مبینہ ہتک آمیز تبصرہ کی بابت بابا رام دیو کے خلاف دائر معاملہ حصار کے اس وقت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ جج ڈاکٹر پنکج کی عدالت سے اب ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت قائم اسپیشل کورٹ کے جج اجے تیوتیا کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔اب اس میں 28 مئی کو شکایت کرنے والے رجت کلسن اور بابا رام دیو کے وکلاء کی بحث ہوگی۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے رجت کلسن نے یہاں بتایا کہ بابا رام دیو نے سنہ 2014 میں لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے راہل گاندھی کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ راہل گاندھی دلت خواتین کے گھر ’ہنی مون‘ منانے جاتا ہے ۔ اس بارے میں نیشنل الائنس اور دلت ہیومن رائٹس کے کنوینر رجت کلسن نے ہانسی تھانہ شہر میں ایک تحریری شکایت دو مئی 2014 کو دی تھی جس پر پولیس نے رسمی مقدمہ درج نہیں کیا ،جس کے سبب شکایت کرنے والے رجت کلسن نے ہانسی کی جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک شکایت کیس درج کروایا تھا جسے اس وقت کے سب ڈویژنل جوڈیشل آفیسر نیشا نے 24 جولائی 2018 کو خارج کر دیا تھا۔اس حکم کے خلاف رجت کلسن نے حصار سیشن کورٹ میں ریویو پیٹیشن داخل کی تھی جس کی شنوائی پہلے ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر پنکج کی عدالت میں ہو رہی تھی لیکن ڈاکٹر پنکج کے پانی پت ٹرانسفر ہونے کے بعد اب یہ معاملہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی اسپیشل کورٹ کے جج اجے تیوتیا کی عدالت میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے ۔آج ہوئی شنوائی میں بابا رام دیو کے وکیل کسی سبب عدالت میں حاضر نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے شنوائی کے لیے آئندہ تاریخ طلب کی گئی۔
جس پر عدالت نے اگلی سماعت 28 مئی مقرر کی ہے ۔