اب جبکہ وادی کی تین پارلیمانی نشستوں کے لئے انتخاب لگ بھگ مکمل ہوچکا ہے ما سوائے دو اضلاع کے ، پلوامہ و شوپیان،رائے دہندگان کی تعداد ماسوائے شمالی کشمیر کے، مشتے از خروارے کی مثل رہی ہے۔ گو کہ گورنر انتظامیہ کو یہ کریڈت جاتا ہے کہ وادی کشمیر میں ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں انتخابات نہایت ہی پرُ امن طریقے سے عمل میں لائے گئے لیکن ساتھ ہی انتخابات میں رائے دہندگان کی غیر دلچسپی اور بے تعلقی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر اُبھری ہے اُن تمام سیاسی جماعتوں کے لئے جو انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے قبل ہوئے انتخابات بشمول 2017 کے ضمنی پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں اب کی بارعلیحدگی پسند سیاست دانوں نے کوئی موثر انتخابی بائیکاٹ مہم نہیں چلائی اور دوسری جانب تشدد کے بھی نہ ہونے کے برابر واقعات دیکھنے میں آئے لیکن پھر بھی رائے دہندگان کی اکثریت نے اپنی رائے نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
علیحدگی پسند سیاسی لیڈران بھلے ہی لوگوں کی الیکشن کے تئیں بے دلی کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپارہے ہوں، اُنہیں اس غلط فہمی میں قطعی طور نہیں رہنا چاہئے کہ یہ جو کچھ ہوا،وہ صرف اُن کے چند سطور والے اخباری بیانات کی وجہ سے ہوا۔ تو کیا یہ عسکریت پسندوں کی بندوق کا خوف تھا جس نے لوگوں کو پولنگ بوتھوں سے دور رکھا؟ ہو سکتا ہے، لیکن جب اس پر ذرا سائنٹیفکلی سوچا جاتا ہے، تو اس وجہ میں بھی اُتنا دم نہیں لگتا۔ ضلع کولگام کے نور آباد میں20.48 فیصد ووٹ ڈالے گئے اور ہوم شالی بگ میں 1.4، دیوسر میں16.84 فیصدوواٹ ڈالے گئے اور کولگام میں 1.72۔ اگر ہم یہ تاویل دیتے ہیں کہ جنوبی کشمیر میں بندوق کا کافی اثر و رسوخ ہے تو کیا یہ اثر نور آباد اور دیو سر میں کم ہے اور کولگام اور ہوم شالی بگ میں زیادہ۔ یہ سب تو ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے علاقے ہیں، کم زیادہ کی بحث کی گنجایش ہی نہیں۔
ووٹنگ کی شرح کا جب ذرا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کُھل کے سامنے آجاتی ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں ،جو انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، اُن کی سیاست کے ساتھ لوگوں کے کچھ مسلے ہیں، خاص کر دو بڑی علاقائی سیاسی جماعتوں، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ساتھ۔ دونوں پارٹیوں کے دو قد آور قائیدین، جنہیں اپنی اپنی پارٹیوں کا چہرہ اور پہچان بھی کہا جاسکتا ہے، انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ وسطی کشمیر سے اور محبوبہ مفتی جنوبی کشمیر سے۔ دونوں نے یہاں سرکاریں چلائی ہیں، دونوں کی ایک اچھی خاصی سیاسی تاریخ ہے،دونوں کا ایک نام ہے، ایک رتبہ ہے، ایک دبدبہ ہے۔ پھر کیوں یہ دو بڑے لیڈران اپنے اپنے حمایتیوں کو پولنگ بوتھوں تک آنے کے لئے رضامند نہیں کر پائے؟ کیوں ان کے ہی زیر اثر علاقوں میں ووٹنگ کی شرح کم رہی؟
کیا وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اُنہیں خوب پرکھ لیا ہے اور اب اور پرکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے؟ ۔کیا وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے ان کے ساتھ جو امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، اُن پر یہ پورے نہیں اُترے ہیں؟ کیا وجہ یہ ہے کہ ان دو بڑی سیاسی تنظیموں نے کہیں نہ کہیں اپنے اپنے بنیادی سیاسی نظریات سے انحراف کیا تھا اور چونکہ وہی سیاسی نظریات لوگوں کو ان پارٹیوں کے قریب لاتے تھے، اب جب وہی نظریات نہ رہے تو لوگ بھی دھیرے دھیرے دور کھسکتے جارہے ہیں۔ یہ کچھ سوالات ہیں اور ان سے جُڑے اور بھی کئی سوالات ہیں جن کا جواب کوئی نہیں دے سکتا ماسوائے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے قائیدین کے۔ کیوں کہ بھلے ہی کھلم کھلا وہ اعتراف نہ کریں، اُن کو لازمی طور اس بات کا ادراک ہو گا کہ وہ کیونکر اور کب اپنے لوگوں سے دور ہونے لگے یا لوگ اُن سے دور ہونے لگے۔
لوگوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو ریاست کی سرکار چلاتے دیکھا ہے۔اُن کی ان دو پارٹیوں کے ٹریک ریکارڈ پر مکمل نظر ہے۔ بارہا لوگوں سے مختلف ا لنوع کے وعدے کئے گئے اور اکثر ایسے وعدوں نے کبھی حقیقت کا روپ دھارن نہیں کیا۔لوگوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو اپنے ہی دور حکومت میں یہ وعدہ کرتے ہوئے دیکھا کہ افسپا (AFSPA) انہیں کے دور حکومت میں ختم کیا جائے گا اور پھر سرکار کی مدت پوری ہونے کے بعد ہونے والے انتخابات میں اُنہیں ایک بار پھر یہ وعدہ کرتے دیکھاکہ دوبارہ ہمیں ووٹ دو تو ہم افسپا (AFSPA) ہٹائیں گے۔لوگوں نے پی ڈی پی کی قیادت کوخود حکمرانی (Self Rule) کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے سنا اور پھر اُسی پی ڈی پی کواُس بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ گلے لگتے دیکھا جو ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 کو ہٹانے پر بضد ہے۔ یہ سب باتیں لوگوں کی یاداشت میں ابھی بہت تازہ ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ دفعہ370 کے تحفظ کے دعوے، 35 A پر واویلا اور افسپا جیسے قوانین کو ہٹانے کے ان دو پارٹیوں کے دعوے اب کی بار رائے دہندگان کو رجھا نہیں سکے ،اس لئے ووٹنگ کے دن اُنہوں نے پولنگ بوتھوں کا رُخ نہیں کیا۔
ایک متحرک جمہوریت کے لئے انتخابات میں لوگوں کی اکثریت کا شریک ہونا ایک لازمی جُز ہے۔ جتنے زیادہ لوگ انتخاب میں شریک ہوتے ہیں ،اُتنا ہی اس بات کی امید بندھ جاتی ہے کہ جو لوگ چُن کے آئیں گے وہ صحیح لوگ ہوں گے اور عام لوگوں کی صحیح ترجمانی کریں گے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد ہندوستان کونسی شکل اور کون سا رُخ اختیار کرے گا ، اُس پر ہماری کشمیر وادی کی تین نشستوں کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔لیکن اگر انتخابی عمل کے تئیں بے دلی اور بے رُخی آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی اسی طرح رہی تو یہ قطعی طور کشمیر اور کشمیریوں کے لئے ایک صحتمند صورتحال نہیں ہوگی۔
علیحدگی پسند سیاست دانوں کو تھوڑی سی خود احتسابی کی عادت ڈالنی پڑے گی۔ برسہا برس سے وہ بائیکاٹ کا ڈھنڈورہ پیٹتے آرہے ہیں۔ اُن سے پوچھا جانا چاہئے کہ اُن کی بائیکاٹی سیاست سے کس کا بھلا ہو رہا ہے؟ ۔یہ تجربہ ناکام ہوچکا ہے اور اس ناکام تجربے کو بار بار دہرانے سے نئی دہلی کا تو کچھ نہیں بگڑے گا لیکن کشمیریوں کی جو رہی سہی سیاسی خود مختاری ہے، وہ بھی تہس نہس ہو جائے گی اور جس طرح آج گلگت اور بلتستان کے لوگ، سندھ اور پنجاب کی طرح پاکستان کا ایک صوبہ بننے کی مانگ کر رہے ہیں، کہیں کشمیریوں کی سیاسی بے اختیاری وہاں نہ پہنچ جائے جہاں وہ ہریانہ اور ہماچل کی طرح ہندوستان کا صوبہ بننے کی مانگ کرنے پر مجبو ر ہو جائیں۔
مین سٹریم سیاست دانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ لوگوں سے جُڑنے کی کوشش کریں۔اُن کے مسائل، اُن کی شکایتوں کو سمجھیں۔ اُن کی انتخابات کے تئیں بے رُخی کی وجوہات پتہ کرنے کی کوشش کریں۔اپنے قول و عمل میں یکسانیت لاکر اپنی سیاست کو اتنا پُرکشش بنائیں کہ لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ اُن کا ووٹ حالات میں ایک مثبت بدلائو لا سکتا ہے۔
………………………
ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر