حضرت ِ انسان کا وجود اور اس کی بقا ایک ایسے محور کے ارد گرد گھومتی ہے جس کو اتحاد کا نام دیا جاتاہے ،اگر یہ محور اپنے نقطۂ نظر سے ذرا بھی ہٹ جائے تو پوری نوعِ انسانی میں ارتعاش کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ،رفتہ رفتہ یہ ارتعاش جھٹکے کی شکل اختیار کرکے پوری انسانیت کو مخمصہ میں ڈال دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر اہم شخصیت نے اتحاد کو اپنا مقصدِ حیات بناکر پوری زندگی یگانگت وموانست اور اخوت ومحبت کی تسبیح پڑھ کر گزار دی ہے۔دنیا کے سارے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتے جائیے اور قرآن مقدس کا مطالعہ بھی کرتے چلے جائیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا کے کسی رِشی ،مُنی ،جادو منتر کے ماہرین نے اتحاد کا ایسا خلاصہ پیش نہیں کیا جو لوگوں کے دِلوں کو چھولے اور وہ اتحاد کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ہاں! اسلام نے اس کے فوائد اور اس کی جامعیت پر جو بحث کی ہے، اس نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی اور طلوعِ اسلام ہی کے وقت سے چشمِ فلک نے دیکھا کہ مدینہ منورہ میں انصارومہاجرین کے درمیان اتحاد واتفاق کا پیغام کس طرح نقطۂ عروج پر پہنچ گیا ۔
اسی پیغام کو آفاقی وسعت دینے کی خاطر اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں بردار بن کر رہو اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ پست ہمت ہو جاؤگے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی ۔صبر سے کام لیا کرو یقینا ًاللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔حدیث میں ہے کہ اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی ہو جاؤ،ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے بغض مت رکھو۔
آج ہمارے اندر اتحاد واتفاق کی جو حکمتِ عملی ہونی چاہئے تھی ،اس کے برعکس ہے ۔ ہم ایک دوسرے سے نفرت کا ماحول بنارہے ہیں ،ہر جگہ ٹولیاں ،جماعتیں اور تقسیم در تقسیم کی راہ پر گامزن ہیں۔آج اسلام کی جامعیت اور اہمیت کو ہر شحص محسوس کرتا ہے ،اس کی خوبیاں بیان کرنے کے لیے بڑے بڑے سیمینار کئےجاتے ہیں ، دانشوران ِ قوم اس پر مقالات لکھتے اور پڑھتے ہیں مگر شریعت ِ محمدی ؐسے ہم آہنگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ظاہر ہےکہ باہم اتحاد ، محبت ویگانگت کی شجر کاری اور تخم ریزی شریعتِ محمدیؐ سے پوری ہم آہنگی کے ساتھ پھیل سکتا ہے، اسی صورت میں شجر ۂ اتحاد کی آبیاری اور ایمان کی حلاوت ہی اتحاد کے برگ وبار کو شاداب کر تی ہےکیونکہ سابقہ تاریخ ہی سے اقوام وعلل کا مستقبل سنورتا اور نکھرتا ہے ،جس کے سہارے وہ آگےکوئی خوش نما اور روشن مستقبل کا تاج محل تعمیر کرتے ہیں ۔
آج دنیا کے تمام دانشوروں کو ایک آواز ہو کر اسلام کے تابناک ماضی سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے پاس اتحاد کا وہ کون سا نسخۂ کیمیا ہے، جس نے مدینہ منورہ میں آباد اوس وخزرج نامی دوقبیلوں کی پشت ہا پشت سے چلی آرہی دشمنی کو ختم کردیا تھا اور جزیرۂ عرب کے وحشی اور جنگ جو قوم کو صلبی اولاد کی طرح باہم محبت کرنے والا بنادیا ۔اگر عصبیت کا چشمہ اُتار کر کوئی غیر مسلم تاریخ نویس بھی اس موضوع پر خامۂ فرسائی کرے گا تو اس کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہو گا کہ جب ان کے قلوب نور ِایمانی سے روشن ہوئے ،کفر ا ور اعمال ِ کفر کی سیاہی ان کے دلوں سے دُھل گئی تو یہ دونوں قبیلے آپس میں شیر وشکر ہو گئے۔مگر افسوس! آج ہم مسلمان اپنے مسلمان ہونے کا گوشہ وتنہائی ،خلوتوں اور جلوتوں ،محفلوں میں ا ور بزم کی تقریبات میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم مسلمان ہیں ،ہمارے آباء واوجداد مسلمان تھے ،ہمارا پورا خاندان مسلمان تھا ،اس ساری تفصیلات گنوانے کے بعد جب سامنے والا ہم پر گفتار و کردار کے حوالے سے نگاہ ڈالتا ہےتو اسے ہمارے مسلمان ہونے میں شک ہونے لگتا ہے ،جب وہ فرقہ بندیوں کی حدبندیوں پر نگاہ ڈالتا ہے تو ہدایت پانے کی راہ میں وہ ہمیں اپنے لئےرکاوٹ گرداننے لگتا ہے۔جب وہ ہماری لن ترانیوں کو دیکھتا ہے ، عملی طور پر قول وفعل میں فرق پاتا ہے۔جب وہ معاملات کی دنیا میں ہمیں صفر پاتا ہے تو اس کے ہوش اُڑ جاتے ہیں اور وہ یہ کہتاہے کہ جس نبیؐ کی یہ اُمت ہے، اُس کے اخلاق ،معاملات ،لین دین ،کلام و بیان ،احسان وسلوک کی پورے عالم میں کوئی مثال نہیں مگر ان کے ماننے والے مسلمان آخر کیوں زبانی دعوؤں کے صفوں میں جارہے ہیں اور اخلاقی اعتبار سے بالکل عاری ہیں ۔
تلخ حقیقت یہی ہے کہ آج برادران وطن پر کیا رویا جائے، خود ہم مسلمانوں میں ایسی تلخیاں موجود ہیں ،جن کے سبب پورا اسلامی معاشرہ بغض وحسد ،کبر ونخوت اورعناد وتکبر کی آگ میں جل رہا ہے۔مسلکی و برادری تصادم کے گھن نے ہمارے معاشرہ کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے ،جس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں ایمان کی مٹھاس کم ہو گئی ہے ۔جس کے لیے ازسرِ نو اسلامی تعلیمات اور احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہےتاکہ آج کا معاشرہ بھی سابقہ روایات کی طرح باہمی خوش اخلاقی کا ایک دل آویز گل دستہ نظر آنے لگے ،جس کی خوبیوں کو دیکھ کر دوسری قومیں از خود اسلام کی جانب پیش قدمی کریں اور اسلام اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ ان کے دِلوں میں اُتر کر اپنی صداقت کا کلمہ پڑھوالے ۔ ایمان ایک مقناطیسی طاقت ہے جو بہت سے پردوں کے باوجود اپنی کشش دکھائے بغیر نہیں رہتا ۔اسی طرح اگر مومن کے اندر ایمانی حرارت اور مخلصانہ جذبہ پیدا ہوجائے تو حالات وواقعات کے عارضی حجابات اور ماحول کی کثافت کا وقتی گردو غبار تھوڑی سی توجہ سے دور کرکے قرب ویگانگت کے بہت سے رشتے پیدا کیے جاسکتے ہیں ۔اس وقت اُمتِ مسلمہ کو آپسی اتحاد کی جس قدر ضرورت ہے ، شاید کسی دور میں رہی ہو، ایسے وقت میں چند جزوی مسائل کو لے کر گھر گھر انتشار وافتراق کا ماحول پیداکرنا ، امتِ مسلمہ کی صفوں میں پھوٹ ڈالنا، ان مسائل کو ایمان وکفر کا معیار قرار دے کر برادرانِ اسلام اور اکابرین ِ اُمت کے حق میں تذلیل وتکفیر کا دروازہ کھولنا، یہ وقت وحالات کے تقاضے کے بالکل موافق نہیں ہے ۔
آج امتِ مسلمہ جس طرح کے خطرات وحالات سے دوچار ہے اوردشمنانِ اسلام ہمیں لقمہٴ تر بنالینے ، فکری یلغار کے ذریعہ ہمارے تانے بانے بکھیرنے ، ہمارے درمیان شقاق واختلاف کا ماحول پیدا کرنے اور اسلام ، اسلافِ اُمت و ہمارے فقہی ذخیرہ وسرمایہ سے (جو قرآن وحدیث کے بعد اسی کی روشنی میں استخراج واستنباط شدہ زندگی کے تمام مسائل پر حاوی مجموعہ ہے، اسلام کا ایک نشانِ امتیاز ہے) سے ہماری وابستگی ، تعلق اور اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس نازک موقع پر ہونا تو یہ تھا کہ ہم اس قسم کے معمولی موضوعات کو بالکل نہ چھیڑتے ، چوں کہ اس کی وجہ سے اُمت میں اتحاد کے بجائے اختلاف پیدا ہوگا ، فاصلے بڑھیں گے اور دل ٹوٹیں گے۔ اغیار تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ کسی طرح ہمارایہ اتحاد ٹوٹے اوروہ اچانک ہمارے آپسی شقاق اور بکھراوٴ سے فائدہ اٹھا کر تمسخر اڑائیں بلکہ ہماری غفلت ونادانی اور حالات کی نزاکت ودشواری کے عدمِ احساس نے یہ صورتِ حال اس وقت پیداکردی ہے اور دشمن ہماری صفوں میں نفاق اور شقاق پیدا کر کے کسی حد تک اپنے ناپاک اور خطرناک عزائم میں کامیاب بھی ہوچکا ہے۔
اس وقت ہمارا طریقہٴ کار یہ ہو کہ اُمت کو ان غیر اہم مباحث میں الجھانے کے بجائے امت کی توانائیوں اور وقت کے قیمتی سرمایہ کو ٹھوس اور تعمیر ی کاموں میں لگائیں ، امت کی توجہ کو دینی حالت کی اصلاح ، اعمال کی طرف دعوت ، معاشرت ومعاملات کی درستگی اور برادران وطن میں پیغامِ حق وصداقت کو عام کرنے کی طرف مبذول کرایں ۔برادران وطن کی اکثریت اختلافات کے باوجود کبھی آپس میں نہیں لڑتیں۔ان میں ہزاروں فرقے موجود ہیں مگر مذہب کی بنیاد پروہ آپس میں نہیں ٹکراتے۔سکھوں میں اکالی اور نرنكاری ہیں، ایک دوسرے کے اختلافات کے باوجود کبھی نہیں لڑتے۔ دگمبر جین اور شویتامبر جین دونوں فرقوں میں بہت زبردست اختلاف ہے کہ دگمبر مونی ننگے رہتے ہیں اور شویتامبر سر سے پیر تک سفید لباس پہنتے ہیں، مگر کیا مجال ہے کہ آپ پروچنوں کے دوران ایک دوسرے پر تنقید کریں یا بُرے ناموں سے نوازیں۔ عیسائیوں میں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان ابتدا میں تلخی رہی مگر جلد ہی دونوں میں عقل آ گئی اور انہوں نے لڑنا بند کر دیا۔
پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہے جس نے اپنے دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے تنازعے کھڑے کرکے بےشمار فرقے بنا ڈالےہیں۔ ہر فرقہ اپنے آپ میں ایک دین بن گیا اور اس نے صرف خود کو مسلمان اور دوسرے فرقوں کو کافر کہنا اور سمجھنا شروع کر دیا۔ جس قوم کا دین ایک، ربّ ایک، رسولؐ ایک، قرآن ایک اور قبلہ ایک ہو، توپھر بھی ہزاروں طرح کے جھگڑے کیوں ؟ آخر اللہ ان پر اپنی رحمتیں کیسےنازل فرمائے اور کیوں نہ مصیبت میں ڈالے۔ آج جو حالات پوری دنیا میں مسلمانوں کے ہیں وہ ہماری اپنی غلطی کا نتیجہ ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سدھر جائیں اور اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لیں اور ایک ٹھوس اُمت بن جائیں،متحد ہو جائیں، تعلیم حاصل کریں ، ہر شعبے میں اپنی جگہ بنائیں، تعلیم حاصل کرنے میں قوم کے ہر بچے کی مدد كریں تب ہی ہم اپنی قوم کی فلاح کے لیے کچھ کر پائیں گے ۔ باہمی تفرقہ بازی سے باہر نکلیں، جہالت چھوڑیں، خود بھوکے رہ کر بھی اپنے بچوں کو اعلی درجے کی تعلیم دیںاورقوم کو متحد اور مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ملتِ اسلامیہ کو جوڑنے کی فکر کریں ، مفاد پرستی پر ملی مفاد کو ترجیح دیں۔ جس طرح سے دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اُمت امتِ واحدہ بن کر رہی، پم بھی اُسی طرح کی اُمت بن کر آپس میں شیر وشکر ہو جائیں تو عنقریب اس کے مفید نتائج سامنے آئیں گے ۔ اب یہ بات عیاں اور بیاں ہے کہ ہر جگہ عوام سمجھ دار ہوتی جارہی ہے ،جہالت کے بادل چھٹ رہے ہیں اور علم و تحقیق اپنا جادو دکھا رہے ہیں، یہی تحقیقی جذبہ بیدار رہا تو ہر چہار سو توحید وسنت کی ہوائیں چلیں گی ،پورے عالم میں دین کی فضائیں گشت کریں گی ،ہر جگہ رحمت کے با دل برسیں گے، ان شاء اللہ۔ اور اگر ہم لڑتے رہے تو ہماری بد اعمالی کی وجہ سے بارانِ رحمت کے بجائے زحمت کے بادل سایہ فگن ہو ں گے ۔دعا ہے کہ امت ِ مسلمہ میں اتحاد واتفاق کا ماحول قائم ہو ،حسد کینہ وبغض سے پاک کر کے اللہ پاک ہم سب کو تواضع وعاجزی کا پیکر بنائے ۔آمین
محبت کے شر ر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سا بیج سے پیدا ریاض ِ طور ہوتا ہے
(خادم جامعہ امام محمدانورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ)
فون نمبر ۔9469715470