برصغیر میں علمائے دین کی بڑی خدمات ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر علم و عمل کا چراغ روشن رکھا ۔ زیر مطالعہ کتاب’’تذکرہ علمائے ہندوستان‘‘ انہی علما کی ایک اجمالی تاریخ ہےجو اپنے آپ میں ایک محققانہ کام ہے۔ یہ کتاب مولانا سید محمد حسین بدایونی کی تصنیف ہے ،جسے ہمارے عہد کے نوجوان اسکالر ڈاکٹر خوشتر نورانی نے پیش کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس پیش کش میں تحقیق اور تدوین کے ساتھ حاشیہ نگاری کا بھی خوب حق ادا کیا گیا ہے جس کیلئے جامِ ِنور(دہلی) جیسے دِینی جریدے کے مدیر ڈاکٹرخوشتر نورانی مبارک باد کے حق دارہیں۔یہ کتاب اپنی اصل میں مظہر العلما فی تراجم العلما و الکملا سے مسمیٰ تھی، صاحبِ تصنیف مولانا سید محمد حسین بدایونی1918 میں دُنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ سو برس سے زائد مدت پرانا یہ مخطوطہ اپنے موضوع اور متن کے لحاظ سے ایک نایاب تحقیقی کام ہے جسے بدایوں کے مدرسۂ عالیہ قادریہ نے منصۂ شہود پر لا کر ایک علمی اور تحقیقی کارنامہ کے طور انجام دیا ہے۔فی زمانہ ہماری جامعات کے اُردو شعبوں میں جس طرح کے تحقیقی کام ہو رہے ہیں، اس کے نتیجے میں یہ کام بس P,hd کی ڈگری کے حصول کا دو اور دو چار کا فارمولہ بن کر رہ گیا ہے۔ عام طور پر نہ تو ماضی بعید کی طرح گائیڈ ہیں اور نہ ہی ویسے ریسرچ اسکالر ۔کسی زمانے میں جب انجمن اسلام ریسرچ سینٹر(ممبئی) ہوا کرتا تھا اور اس کے نگراں عبد الرزاق قریشی تھے،جن کے تعلق سے یہ واقعہ روایت کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایک شاگرد کو جو کچھ بتاتے تھے وہ طالب علم نوٹ کرتا رہتا ، ایک دن عبد الرزاق قریشی نے اپنے اس طالب علم سےجھنجھلا کرکہا :
’’ میاں ! آپ پی ایچ ڈی تو ضرور کر لیں گے مگر جسے محقق کہتے ہیں وہ کبھی نہ بن سکیں گے۔ ‘‘
شاگرد نے اُستاد سے کہا :
’’ محترم! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘
اُستاد نے جواب دِیا:
’’عزیزم! تحقیق میں’ ’شک‘‘ لازم ہے اور آپ کو میں جو بھی بتاتا ہوں، آپ کسی چوں چراں کے بغیر، کسی حیل و حجت کے بدون قبول کر لیتے ہیں ، یہ عمل تحقیق کی روح ہی سے دور کردیتا ہے۔‘‘
عبد الرزاق قریشی کے بیان کر دہ اس اصول کی روشنی میں دورِ حاضر کے پی ایچ ڈی اسکالرز کی طلبِ علمی اور نگراں (گائیڈ)حضرات کے علم اور تحقیق کے ذیل میں دلچسپی سب کچھ عیاں ہی نہیں بلکہ کافور محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے مشہور انگریز ادیب رالف رسل کا بھی ایک واقعہ ذہن میں تازہ ہو رہا ہے کہ اُن کو ہندوستان کے ایک پرائیویٹ ادارے نے’’ہند میں اُردو کی صورت ِحال‘‘ جیسے موضوع پر اپنے میموریل لکچر کیلئے مدعو کیا۔ انگلینڈ میں رہتے ہوئے، تحقیق سے پُر جس طرح کا مقالہ رالف رسل نے لکھا تھا وہ بھی دورِ حاضر کے پی ایچ ڈی اسکلالرز کو منہ چڑاتا، محسوس ہوتا ہے۔ رالف رسل کا مذکورہ مقالہ راقم السطور نے نہ صرف دیکھا بلکہ پڑھا بھی ہے ،جس میں آنجہانی رسل نے فی زمانہ اُردو کے تئیں اُردو والوں کے عمومی رویے کی پول کھول کر رکھ دِی ہےکہ پڑھ کر آپ کا سر بھی جھک جائے گا، ہمارا حافظہ اگر خطا نہیں کرتا تو عرض ہے کہ مسٹر رسل کے اس مقالے کو کوئی پندرہ برس قبل روزنامہ منصفؔ(حیدر آباد) نے کتابچے کی شکل میں شائع کر دیا تھا۔ اس مقالے کے تذکرے کا مقصد محض یہ ہے کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا ، دراصل کام کرنے والے کی نیت اُس کی دلچسپی اور انہماک اسے کم تر یا بر تر بناتا ہے اور اس مقالے سے یہ بھی واضح ہوا کہ فاصلہ بھی کوئی اڑچن نہیں بنتا ۔ بہر حال ڈاکٹر خوشتر نورانی کا یہ تحقیقی کام واقعتاًپی ایچ ڈی جیسے اعزاز کا حق دار ہے، جیسا کہ نورانی نے اس کتاب کے سر نامے پر لکھا ہے :’’ بر صغیر میں اٹھارویں اور اُنیسویں صدی کے ایک ہزار مشاہیر علما،مشائخ اور ادبا کا125 برس قدیم اور مستند قلمی تذکرہ ہے۔ یہ اس سے قبل ایک مخطوطے کی شکل میں تھا جسے ڈاکٹر خوشتر نورانی نے تحقیق کی عرق ریزی کے ساتھ افادہ ٔعامہ کےلئے عام کر دیا ہے مگر یہ کام ایسا نہیں کہ نورانی نے کچھ اِدھر اور کچھ اُدھر سے جمع کیا اور کتاب چھاپ دی۔ نورانی نے باقاعدہ تعلیق اور حواشی سے اسے ایک تحقیقی رنگ ہی نہیں دیا بلکہ اس کے افادیات کو مزید تقویت بھی دی ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جو کسی کام کو استناد کے در پرپہنچا دیتےہیں۔
چھ سو سے زائد علما کے اسمائے گرامی حروفِ تہجی کے اصول کے مطابق اس کتاب میں درج کیے گئے ہیں اور اُن علما کے حالات و کوائف بھی اختصار واجمال کے ساتھ ہمارے علم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس تذکرے میں ایک بات ہمیں بہت اچھی لگی کہ علما کے ذکر میں کسی تعصب یا جانبداری سے احتراز کیا گیا ہے، مثلاً جہاں احمد رضا خاں ہیں ، وہیں مولانا اشرف علی تھانوی بھی مذکور ہیں ۔
فیروز اللغات جیسی فرہنگ کے مؤلف مولوی فیروز الدین کے بارے میں بھی حاشیے میں ہمیں وہ باتیں پڑھنے کو ملیں جو ہم نہیں جانتے تھے، کم ہی لوگ اس سے باخبر ہوں گے کہ مولوی فیروز الدین نے مشہورِ زمانہ مکتبہ’’ فیروز سنز‘‘ ایک انگریز(ڈائریکٹر آف ایجوکیشن) مسٹر ولیم بل کی ایما پر قائم کیا تھا۔ اسی طرح اُس دور میں انہوں نے مسلمانوں کا واحد انگریزی روزنامہ ’’ایسٹرن ٹائمز‘‘ بھی جاری کیا تھا۔ڈاکٹر خوشتر نورانی کی یہ کتاب اپنے حجم میں کوئی900 سو سے زائد صفحات پرمشتمل ہے مگر اس کی ضخامت اور پھر اس کے وقیع مشمولات دیکھ کر کوئی بھی منصف مزاج شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ قاری کو مرعوب کرنے کےلئے کتاب کو ضخیم بنایا گیا ہے۔کیسے بڑے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو جلّا دینے کی سعیٔ بلیغ کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ اللہ کسی کے کارِ خیر کوضائع نہیں ہونے دیتا۔ مولانا انجم فوقی بدایونی کا ایک قول (مفہوم) یاد آتا ہے کہ دوسروں کو جلّا دینے والے، دوسروں کوجلّا دے سکیں نہ دے سکیں مگر( بہ فضلِ ربی) خود زندہ جاوید ہوجاتے ہیں۔یہ بات’’ تذکرۂ علمائے ہندوستان‘‘ کے مصنف مولانا سید محمد حسین بدایونی اور اس مخطوطے کے متن پر کام اور اسے عام کرنے والے ڈاکٹر خوشتر نورانی پر بھی صادق آتا ہے۔ذرا سوچئے کہ مولانا سید محمد حسین بدایونی کو اس دُنیا سے رخصت ہوئے ایک صدی کا زمانہ گزر چکا ہے،ہم میں سے بے شمار افراد اُن کے کام تو کجا ان کے نام سے بھی نا واقف تھے ،مگر وہ جو کہا گیا ہے کہ کسی کا کام ضائع نہیں ہوتا اور ایسا کام جو صرف کام نہ ہو بلکہ وہ علم و فن کا خزینہ بن گیا ہو تو وہ کیسے ضائع ہوگا کہ سونا چاہے جتنے مَن مٹی کے نیچے دفن ہو جائے مگر جب بھی وہ سامنے آئےگا، اپنی قدر وقیمت کے سبب ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا بلکہ اس کی قیمت بھی دو چند ہو چکی ہوگی۔
اس کتاب کی اہمیت اور افادیت نیز اس کے انفراد کو محقق نے کتاب میں یوں واضح کیا ہے:
’’(1)اپنی قدامت کے لحاظ سے یہ دورِ اوّل کااُردو تذکرہ ہے، جس زمانے میں اُردو میں تذکرے لکھنے کا آغاز ہو رہا تھا، اُس عہد سے قبل زیادہ تر تذکرے فارسی یا عربی میں لکھے جارہے تھے۔
(2) مصنف نے جن مشاہیر کے احوال اور علمی، ادبی اور دِینی کمالات کا ذکر اس میں کیا ہے، ان میں بہت سی شخصیات کو انہوں نے دیکھا اور ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس طرح ان کے لکھے(ہوئے) احوال و کمالات محض شنیدہ و خواندہ نہیں بلکہ دیدہ بھی ہیں، جس سے تذکرے کی ثقاہت اور استناد مستحکم ہو جاتی ہے۔‘‘یہ مخطوطہ اُردو کے مشہور عالِم اور ممتاز شاعر ماہرؔ القادری نے برسوں قبل دیکھا تو انہوں نے لکھا تھا :’’۔۔۔۔ افسوس یہ کتاب آج تک شائع نہ ہوسکی، مصنف نےعرق ریزی کی اور صرف اس تمنا پر کہ کتاب اگر شائع ہوجائےتو قارئین کو ایک خاص تاریخی معلومات ہوجائے، لیکن افسوس مصنف کا یہ ارمان پورا نہ ہو سکا۔‘‘ مولانا ماہرؔ القادری نے اپنے اس تاثر کو یوں تمام کیا ہے :’’تاریخی معلومات کے لحاظ سے یہ کتاب بہت بہتر ہے اور تعصب سے اس کتاب کو بہت دٗور رکھا گیا ہے۔‘‘(ص: ۷۷)
من جانب اللہ ہر کام کا ایک وقت متعین ہوتا ہے، قدرت کو یہ کام خوشتر نورانی سے لینا تھا اور لیا گیا اور نورانی نے اس کا حق اداکرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ ہمارا یہ کالم اس کتاب پر تبصرہ تو نہیں بس ایک ہلکا سا تعارف ہے۔ یقین ہے کہ خوشتر نورانی کا یہ تحقیقی کام جس پر انہیں دہلی یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی ہے، بفضل ربی قبولِ خاص و عام ہوگی جو اِس کا حق ہے۔
٭ کتاب کے حصول کیلئے’ مکتبہ جام ِ نور(دہلی) کے اس موبائیل نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
رابطہ 9958093786