آئندہ 2ہفتوں میں 50فیصد آبادی متاثر ہوگی:جی ایم سی جموں
پرویز احمد
سرینگر //جموں صوبے میں آنکھوں کے فلو کے معاملات میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور آنے والے2 ہفتوں کے دوران آدھی یعنی 50فیصد آبادی فلو کی شکار ہوجائے گی۔گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے شعبہ امراض چشم میں روزانہ علاج و معالجہ کیلئے آنے والے لوگوں میں 80فیصد آنکھوں کے فلو کے شکار ہوتے ہیںجو بخار اور آنکھوں میں فلو کی شکایت کے ساتھ اسپتال پہنچتے ہیں۔ جی ایم سی جموں میں شعبہ امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر اشوک کمار شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پچھلے 10دنوں کے دوران جموں صوبے میں آنکھوں کا فلو کافی تیزی سے پھیل رہا ہے اور فلو پھیلنے کی بڑی وجہ Adenovirusکی ہیت میں تبدیلی آنا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ جس تعداد سے آنکھوں میں فلو کے کیس سامنے آتے ہیں ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جموں صوبے میں موجود Adeno virusنے اپنی ہیت تبدیل کی ہے۔ ڈاکٹر شرما نے بتایا ’’ جمعرات کو ہم نے شعبہ امراض چشم میں 135مریضوں کا علاج و معالجہ کیا جن میں 100سے زائد مریضوں کی آنکھوں میں انفکیشن تھا ۔ ڈاکٹر شرما نے بتا یا ’’ جب اچانک کسی بیماری سے متاثررہ مریضوں کی تعداد حد سے زیادہ ہوتی ہے تو ہم اس کو وباء قرار دیاجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنکھوں کے انفکیشن سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی حد سے زیادہ برھ گئی ہے اور اسی وجہ سے ہم آنکھوں کی انفیکشن کی وباء کہتے ہیں۔ ڈاکٹر شرما نے بتایا کہ جموں میں اسوقت سکول کھلے ہیں اور اسی وجہ سے انفکیشن تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ یہ بیماری تعلیمی اداروں سے ہی گھروں کی جانب جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول میں متاثرہ بچے سے دوسرے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ ان کہنا تھا کہ پہلے بچے بخار،گلے میں خراش اور آنکھوں میں سرخی کی وجہ سے اسپتال آتے تھے لیکن اب صرف آنکھوں کا انفیکشن عام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں اور کالجوں میں بچے متاثر ہوتے ہیں اور بعد میں یہی بچے گھروں میں بڑوں اور بزرگوں کو متاثر کرتے ہیں اور اسی طرح آہستہ آہستہ پورے جموں میں یہ وائرس پھیل گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ آئندہ دو ہفتوں میں جموں میں 50فیصد سے زائد کی آبادی متاثر ہوگی اور بعد میں معاملات میں کمی آنا شروع ہوجائے گا کیونکہ آدھی آبادی کے متاثر ہونے کے بعد Herd imminityپیدا ہوتی ہیں اور وباء خود بہ خود ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کے بعد وائرس کا اثر بھی کم ہوگا ۔ ڈاکٹر اشوک کا کہنا تھا کہ شعبہ وائرولاجی نے نئی ہیت کی بناوٹ جاننے کیلئے نموں دلی بھیجے ہیں جس سے وائرس کی نئی ہیت کا پتا چلے گا۔ ڈاکٹر اشوک نے کہا ’’ 8سال کے بعد جموں میں ایک مرتبہ پھر adeno virus نے لوگوں کو شکار بنایا ہے تاہم یہ وباء جلد ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے جلد خاتمے کیلئے متاثرہ بچوں کو سکول نہ بھیجنے، متاثرہ افراد کو علیحدہ کرنے اور دیگر اقدامات سے کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط ہی بہتر بچائو ہے اور احتیاط کیلئے متاثرہ افراد کو علیحدہ کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں صوبے میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آنکھوں کے انفیکشن میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ علاج کیلئے اسپتالوں کے باہر قطاروں میں دیکھائی دیتے ہیں۔