محمد بشارت
کوٹرنکہ //ضلع راجوری کے دور افتادہ علاقے سموٹ میں قائم نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر (NTPHC) سموٹ کی مبینہ غیر فعالیت پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا یہ صحت مرکز بیشتر اوقات بند رہتا ہے، جس کے باعث غریب، قبائلی اور دور دراز علاقوں کے مکین علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق منگل کے روز بھی این ٹی پی ایچ سی سموٹ بند پایا گیا، جس کے باعث علاج کے لیے آنے والے متعدد مریضوں کو مایوس ہو کر واپس لوٹنا پڑا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ مرکز صحت کے اکثر بند رہنے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والے اس ادارے کا صرف کاغذوں میں موجود ہونا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق ایک ایسا طبی مرکز، جو عوام کو فوری اور بنیادی صحت خدمات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہو، اگر زیادہ تر وقت بند رہے تو اس کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔علاقے کے لوگوں نے محکمہ صحت کے ان دعوؤں پر بھی سوال اٹھائے ہیں جن میں دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ نہ صرف طبی عملے کی کمی ہے بلکہ کئی مواقع پر مرکز صحت مکمل طور پر غیر فعال رہتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق خالی وعدے، بیانات اور اعلانات ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، ادویات اور فعال طبی اداروں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔شہریوں نے کہا کہ دیہی اور قبائلی علاقوں میں رہنے والے لوگ بھی عزت اور وقار کے ساتھ معیاری طبی سہولیات کے مستحق ہیں۔ انہیں بند عمارتیں، غیر حاضر عملہ اور انتظامی بے حسی قبول نہیں۔ اگر طبی مراکز ہی بند رہیں گے تو ہنگامی حالات میں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔عوام نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما، چیف میڈیکل آفیسر راجوری، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ این ٹی پی ایچ سی سموٹ کی غیر فعالیت کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، طبی عملے کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانے، ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی مستقل تعیناتی، ادویات کی دستیابی اور مرکز صحت کو مکمل طور پر فعال بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ علاقے کے ہزاروں افراد کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔