عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سابق کابینہ وزیر اور اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے مرکزی سرکار پر زور دیاہے کہ وہ لوگوں کے دل جیتنے اور یوٹی اور باقی ملک کے درمیان خلیج کو پاٹنے کیلئے جموں و کشمیر کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ بامعنی بات چیت شروع کرے۔ ٹنگمرگ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے میر نے کہا کہ ’’ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر اور باقی ملک کے لوگوں کے درمیان دل کی دوری دور کرنے اور خلیج کو پاٹنے کیلئے اقدامات کریں گے۔ ایسا کرنا ناگزیر ہے، دل کی دوریوں کو پاٹنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں یہاں ایک پرامن ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دیرپا امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ میر نے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی پارٹی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہاکہ حکومت یہ انتخابات نہیں کروانا چاہتی کیونکہ وہ نچلی سطح پر نمائندوں کو بااختیار نہیں بننا چاہتی اور نہ ہی زمینی سطح پر منتخب نمائندوں کے ساتھ اقتدار کا اشتراک چاہتی ہے۔ تاہم،اپنی پارٹی یہ بات یقینی بنائے گی کہ ان انتخابات کو مزید تاخیر کے بغیر منعقد کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں نیشنل کانفرنس یہاں بہتر حکمرانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رفیع احمد میر نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت جسے عوام نے بھاری مینڈیٹ سونپا ہے، جموں و کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ یاور میر نے حکمراں این سی پر الزام لگایا کہ وہ دہائیوں سے اپنے متضاد بیانیوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ پارٹی ہمیشہ تضادات سے بھری رہی ہے۔ سب سے پہلے، اس جماعت نے جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران اس جماعت نے دفعہ 370 کو واپس لانے کا وعدہ کیا، انتخاب جیتنے کے بعد یہ جماعت دفعہ 370 کا ذکر بھی نہیں کرتی ہے۔ اب یہ صرف ریاتی درجہ کی بحالی کی بات کرتی ہے۔‘‘اس موقعے پر پارٹی کے ضلع صدر بارہمولہ شبیر احمد شاہ، ڈی ڈی سی ممبر نذیر احمد شیخ، شبیر احمد، ایڈو کیٹ میر تجمل اشفاق، پارٹی رہنما ڈاکٹر نور، کاکا جی ، عبدالرحمان لون، عبدالکریم ڈار، نذیر احمد دردپورہ، سابق بی ڈی سی عبدالغنی میر، اور دیگر لیڈران موجودتھے۔