سرینگر//سابق ریاست جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے اُن کی جائیداد منسلک کرنے کے خلاف عرضی کی سماعت جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ایک نئے جج کے سامنے آج ہوگی۔عرضی جس میں اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کی جائیداد منسلک کرنے کومنسوخ کرنے کیلئے تفصیلی وجوہات پیش کی گئیں ہے اور5مارچ کواس کی سماعت جسٹس علی محمدماگرے کے سامنے ہوئی جنہوں نے اِسے سوموارکوایک نئے بنچ کے سامنے رکھنے کاحکم دیا۔عرضی کے ساتھ پچاس سے زیادہ دستاویزات منسلک ہیں جن میں جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن گھپلے کے تمام پہلوئوں کااجاگر کیاگیا ہے اورعدالت کو مطلع کیا گیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہی حکم پرایسوسی ایشن کی ایک اِن ہاوس کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے دو اہلکاروں کو مالی بے ضابطگیوں میں ملوث پایااور ان کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیاگیا۔عرضی میں ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہیں بھی اس کیس کی آزادانہ تحقیقات نہیں کی جس کی وجہ سے یہ کیس ذاتی تعصب کا معاملہ بن گیا۔کہیں پر بھی اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اطمینان بخش وجوہات پیش نہیں کیں کہ عرضی گزار جرم میں کہیں شامل ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر2001سے2012تک رہے اور سال2004سے2009تک ایسوسی ایشن میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات سی بی آئی اوراینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کررہا ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی کے مطابق اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے28دسمبر2018کورنبیر پینل کوڈ کے تحت کیس رجسٹر کیااوریہ معلوم نہیں کیا کہ کیا اُسے ایساکرنے کااختیار ہے ۔اینفورسمنٹ ڈائر یکٹوریٹ نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ نے2001سے2011تک جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کا صدر ہونے کی پوزیشن کاغلط استعمال کیااوراس ادارے میں تقرریاں کیں تاکہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا کی سپانسرڈ رقومات کوغبن کیا جائے ۔اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کئی بار نیشنل کانفرنس کے84برس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھ تاچھ کی ہے ۔