عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہندوستان نے سوموار کو ایران میں مقیم اپنے تمام شہریوں کو سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر تجارتی پروازوں سمیت نقل و حمل کے تمام دستیاب ذرائع سے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا۔تہران میں تازہ احتجاج اور خلیجی ملک پر امریکی فوجی حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان ایران میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک تازہ ایڈوائزری جاری کی۔ ایران کی متعدد یونیورسٹیوں کے طلبا نے گزشتہ ماہ مظاہرین کے خلاف تہران کے وحشیانہ کریک ڈائون کے بعد اس طرح کے پہلے احتجاج میں حکومت مخالف مظاہرے کئے۔
جنوری میں سرکاری اندازوں کے مطابق، 10,000 سے زائد ہندوستانی، بشمول طلبا، ایران میں رہ رہے تھے۔سفارتخانے نے کہا، “حکومت ہند کی طرف سے 5 جنوری کو جاری کردہ ایڈوائزری کے تسلسل میں اور ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، ہندوستانی شہریوں کو جو فی الحال ایران میں ہیں (طلبا، زائرین، کاروباری افراد اور سیاح) کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دستیاب ذرائع آمدورفت بشمول تجارتی پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔”مشن نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ تمام ہندوستانی شہریوں اور پی آئی اوز (ہندوستانی نژاد افراد)کو احتیاط برتنی چاہئے، احتجاج یا مظاہروں کے علاقوں سے گریز کرنا چاہئے اور ہندوستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہنا چاہئے۔مشن نے ایڈوائزری میں کہا، “ایران میں تمام ہندوستانی شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سفری اور امیگریشن دستاویزات بشمول پاسپورٹ اور شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں۔”اس نے کہا، “ان سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی مدد کے لیے ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کریں‘‘۔