اقوام متحدہ//دنیا کے چھ طاقتور ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدہ کی تجدیدپر جہاں امریکی صدر مختلف قسم کے بیان دے کر معاہدہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہیں اسرائیل نے ایرانی نیوکلیائی پروگرام سے متعلق کچھ مبینہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ ایران اب بھی نیوکلیائی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے ۔بہرحال ،یہ معاملہ کس کروٹ بیٹھے گا ،اس پر گومگو کی صورتحال ہے ۔ اسی پس منظر میں اب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل ا ینٹونیو گو ٹریس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے کیے جانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے سے باہر نہ نکلے ۔ سکریٹری جنرل خبردار کیا کہ اگر معاہدہ باقی نہ رہا تو اس صورت میں جنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے جب تک اس سے بہتر متبادل سامنے نہیں آتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں کیے جانے والے اس معاہدے کے ناقد ہیں اور اس معاہدے کو'پاگل پن' قرار دے چکے ہیں۔ وہ آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ وہ 2015 میں ہونے والے اس معاہدے میں شامل رہیں یا نہیں۔ دوسری جانب یوروپی ممالک کے رہنما صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کو منسوخ نہ کریں۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اتفاق کیا تھا کہ موجودہ جوہری معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے ۔منگل کو ہی اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے 'خفیہ ایٹمی فائلیں' افشا کی تھیں جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیل کی مبینہ ایٹمی فائلوں کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ بنجامن نیتن یاہو کا یہ اقدام امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش تھی جس میں انھوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ جوہری معاہدے کے ساتھ رہیں یا نہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالہ سے مبینہ خفیہ معلومات افشا کیے جانے سے چند دن پہلے ہی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس کے صدر نے تجویز دی تھی کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر نیا معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن ایرانی صدر نے کہا تھا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ قائم موجودہ جوہری معاہدے پر 'سمجھوتہ نہیں ہو سکتا'۔یو این آئی